وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے اعلان کرتے ہوئے ایف بی آر میں جدید اور عالمی معیار کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کی منظوری دی ہے یہ فیصلہ اُن کی زیرِ صدارت ایف بی آر کی جاری اصلاحات پر ہونے والے جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔
وزیراعظم نے واضح ہدایت دی کہ صرف ’ڈیجیٹائزیشن‘ کافی نہیں، بلکہ ایک مکمل مربوط اور طاقتور ڈیجیٹل ایکو سسٹم قائم کیا جائے، مزید برآں وزیر اعظم نے عالمی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات لینے کا بھی عندیہ دیا تاکہ یہ نظام عالمی معیار پر پورا اتر سکے۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ خام مال کی تیاری، درآمد، مصنوعات کی مینوفیکچرنگ اور صارف کی خریداری تک کے تمام مراحل کا ڈیٹا ایک ہی مربوط نظام میں شامل کیا جائے اور یہ نیا نظام اس قدر مؤثر ہونا چاہیے کہ پوری ویلیو چین (Value Chain) کی براہ راست ڈیجیٹل نگرانی ممکن ہو سکے۔
ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو قومی ترقی کے لیے ایک سنگِ میل کے طور پر تسلیم کیا جانا اہم پیش رفت ہے، ڈیجیٹل ایکو سسٹم چونکہ بہت سی ٹیکنالوجیز کو باہم مربوط کر کے موثر نگرانی کے ذریعے بہترین کارکردگی کا حصول ہے اور یہ تفصیلات آنا ابھی باقی ہے کہ حکومت کون کون سی ٹیکنالوجیز کو اس نظام کا حصہ بنائے گی، ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں شامل عمومی ٹیکنالوجیز کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔
ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) جو ڈیجیٹل نظام کو سیکھنے موازنہ کرنےاور بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہیں، ایف بی آر جیسے اداروں کے لیے یہ ٹیکنالوجیز ٹیکس چوری کی نشان دہی، ڈیٹا کا تجزیہ اور خودکار رپورٹس کی تیاری جیسے امور میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اس نظام میں (Digital Twins) بھی اہم ہے، جو کسی بھی مشین، نظام یا عمل کی ڈیجیٹل نقل ہوتی ہے، جو کہ نگرانی کرتے ہوئے مقرر کردہ معیار کے مطابق جائزہ لیتے ہوئے مسائل کی نشان دہی اور حل پیش کرتا ہے۔
اگر اس تصور کو ایف بی آر کی ویلیو چین پر لاگو کیا جائے تو خام مال کی آمد سے لے کر مصنوعات کی فروخت تک ہر قدم پر ڈیٹا کی نگرانی اور بہتری کا عمل انجام دیا جا سکتا ہے۔
EPR (Extended Producer Responsibility)یہ نظام اداروں کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ نہ صرف مصنوعات کی فروخت بلکہ ان کی بعد از استعمال کے بھی ذمہ دار ہوں، ایف بی آر اس اصول کو بزنس ماڈلز میں ضم کر کے ماحولیاتی، معاشی اور سماجی ترقی میں توازن پیدا کر سکتا ہے۔
ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی فعالیت میں RFID اور QR کوڈز جیسے ٹولز بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو اشیاء کی شناخت، ٹریکنگ اور رجسٹریشن میں فوری معلومات فراہم کرتے ہیں، ٹیکس سسٹم میں اگر درآمدی یا مقامی مصنوعات کو RFID یا QR کوڈ سے منسلک کر دیا جائے تو اس کی شناخت، نقل و حرکت اور فروخت کی مکمل نگرانی ممکن ہو سکتی ہے۔
انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) مختلف مشینوں اور سسٹمز کو انٹرنیٹ سے جوڑ کر ایک ’سمارٹ‘ نظام میں تبدیل کرتا ہے، ایف بی آر اگر اپنی تنصیبات اور سسٹمز کو IoT سے منسلک کرتا ہے تو نہ صرف روز مرہ کے امور خودکار ہوں گے بلکہ انسانی مداخلت میں بھی کمی آئے گی۔
Big Data Analyticsوسیع جمع شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے درست رہنمائی فراہم کرتا ہے، ایف بی آر جیسے ادارے اس ڈیٹا کا استعمال کر کے ٹیکس پالیسیوں میں بہتری، کاروباری رجحانات کی پیش گوئی اور شفاف فیصلے کر سکتے ہیں۔
Cloud Computingڈیٹا کو انٹرنیٹ پر محفوظ، تیز اور باآسانی قابل رسائی بناتا ہے۔ Cloud-based solutions ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کو محفوظ بنانے کا اہتمام کر سکتا ہے۔
Blockchainٹیکنالوجی اس تمام نظام کو محفوظ، شفاف اور ردوبدل سے محفوظ بنانے میں مدد دیتی ہے، اس کی مدد سے ٹیکس ریکارڈز ریفنڈز اور لین دین کو ایسے بلاکس میں محفوظ کیا جا سکتا ہے، جنہیں کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا، اور یہی شفافیت اور اعتماد کی بنیاد ہے۔
یہ تمام ٹیکنالوجیز ڈیجیٹل ایکو سسٹم نظام میں باہم منسلک ہو کر کام کرتی ہیں تو ایک جدید، موثر، شفاف اور تیز رفتار نظام وجود میں آتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی ترقی اور جدت میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے یقیناً بہتر کردار ادا کیا اور معیشت کے موجودہ استحکام میں بھی ان بہت اہم کردار ہے۔
لیکن ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عمومی طور پر ماضی میں کئی پالیسیوں اور اصلاحاتی دعوؤں کا اعلان تو ہوا، مگر ان پر عملدرآمد یا تو بہت محدود رہا یا مکمل طور پر غیر مؤثر ثابت ہوا، اگر وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق یہ نیا ڈیجیٹل نظام واقعی عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ پاکستان کے لئے ایک بڑی خدمت ہو گی۔
اگر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا تو یہ پاکستان کی بدقسمتی کی ایک اور کڑی کہلائے گا، جہاں وژن تو موجود ہوتا ہے مگر عمل درآمد مفقود
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل ایکو سسٹم ایف بی آر کرتا ہے سکتا ہے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔