ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے جاسوس گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات میں متعدد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی انٹیلیجنس یونٹ نے صوبہ البرز میں کارروائی کرتے ہوئے 2 مبینہ جاسوسوں کو گرفتار کیا ہے جن پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کرنے کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شہریوں کی جاسوسی کے لیے اسرائیلی کمپنی کی خدمات؟

حکام کے مطابق دونوں افراد ایک سیف ہاؤس میں چھپے ہوئے تھے اور وہاں دھماکا خیز مواد اور حساس الیکٹرانک آلات تیار کررہے تھے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد سے تفتیش جاری ہے اور ان کے اعترافی بیانات جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔

یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حالیہ ہفتوں میں ایران نے موساد سے منسلک نیٹ ورک کے خلاف مختلف شہروں میں کارروائیاں تیز کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے اسرائیل کی جانب سے صحافیوں کی جاسوسی مہم پکڑ لی، قانونی کارروائی کااعلان

قبل ازیں ایرانی فورسز نے وسطی شہر یزد سے 5 افراد کو اسرائیل کے لیے جاسوسی، حساس مقامات کی تصاویر لینے اور اسرائیلی کمانڈوز کو ایران میں داخل کرنے میں مدد کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

دوسری جانب، اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ تل ابیب میں ایران کے لیے جاسوسی کے شبہے میں 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد کو اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ادارے شاباک (شین بیت) اور پولیس نے ہفتے کے روز حراست میں لیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا مزید اسرائیلی جاسوسوں کی گرفتاری کا دعویٰ

اسرائیل کی جانب سے اس معاملے پر مزید معلومات جاری کرنے پر عدالتی پابندی عائد ہے, تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد عمل میں آئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسرائیل ایران تل ابیب تہران جاسوس گرفتار.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایران تل ابیب تہران جاسوس گرفتار افراد کو کے لیے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام