معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے عوامی سہولت میں اضافہ ہوگا: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صوبائی حکومتوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کو ہدایت کی ہے کہ وہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن اور کیش لیس معیشت کے لیے وفاقی حکومت سے مکمل تعاون کریں۔اسلام آباد میں کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پلان کو صوبوں اور ان کے اداروں کے تعاون سے مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مقررہ مدت میں اہداف حاصل کیے جا سکیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس منصوبے میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کو مستقل حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت کو فروغ ملے گا اور اس کا بنیادی مقصد عوام کو بغیر کسی اضافی لاگت کے سہولت فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کی جا چکی ہے اور اس حوالے سے قواعد بھی وضع کر دیے گئے ہیں۔ اتھارٹی کے چیئرمین اور ارکان کی تقرری کا عمل آخری مراحل میں ہے۔
اشتہار
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔