Daily Ausaf:
2026-07-24@08:04:40 GMT

عالمی جنگ کا آغاز اور پاکستان کی حکمتِ عملی کی اہمیت

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

مشرقِ وسطی ایک بار پھر عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے اور عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے جنگ کا آغاز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے ایران پر حملوں سے ہوا، جس نے ایک سنگین اور تباہ کن سلسلے کو جنم دیا ہے اور ایران کی ابتدائی اعلیٰ عسکری قیادت کے غیر متوقع جانی نقصان کے جواب میں ایرانی سخت رد عمل نے اسرائیل کو حیران کردیا ہے۔
اسرائیل کی پشت پر عالمی سامراجی قوتیں امریکہ، برطانیہ، فرانس کھڑی ہیں، جو اپنی فضائی قوتیں پہلے ہی مشرقِ وسطی میں تعینات کر چکی ہیں۔ان حالات میں پاکستان کا کردار صرف ایک تماشائی کا نہیں بلکہ نئی عالمی صف بندی میں ایک کلیدی مسلم طاقت کے طور پر ابھرنے کا ہے۔
پاکستان کی تزویراتی اہمیت:جوہری طاقت جو حالیہ بھارتی جارحیت کا بروقت اور موثر جواب دے کر اپنی عسکری قیادت اور صلاحیت کا لوہا منوا چکی ہے۔ایران کا جغرافیائی مسلم پڑوسی ہونے کے باعث کسی بھی جنگ کے براہِ راست اثرات پاکستان پر پڑسکتے ہیں۔مضبوط فوجی ادارہ جسے عالمِ اسلام میں ایک نظریاتی، دفاعی اور متحرک قوت مانا جاتا ہے۔عوامی شعور اور امت سے وابستگی پاکستانی عوام فلسطین، شام، یمن، کشمیر اور عالمِ اسلام کے مسائل پر بیدار اور حساس ہے۔
حکمت اور سٹریٹجک بصیرت کی فوری ضرورت:اور مسلم ممالک کے باہمی اتحاد کی سخت ضرورت اور اہمیت‘جلدبازی سے اجتناب: پاکستان کو کسی عالمی طاقت کا مہرہ نہیں بننا چاہیے، بلکہ اپنی خودمختار پالیسی کو محفوظ رکھتے ہوئے قدم اٹھانا چاہیے۔
سفارتکاری اور غور و فکر:پاکستان کو چاہیے کہ ترکی، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا، مراکش اور دیگر مسلم ممالک سے رابطہ کاری اور مشاورت کرے، اور اسرائیل‘ ایران کی جنگ پر ایک متحدہ اسلامی موقف تشکیل دے۔
داخلی اتحاد:پاکستان کو اندرونی استحکام، میڈیا اور عوامی یکجہتی پر توجہ دینی چاہیے تاکہ بیرونی دبا ئو کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے۔غیر اعلانیہ سفارتی تدابیر:پاکستان کو خفیہ سفارتکاری، انٹیلی جنس روابط، اور سٹرٹیجک تیاریوں کے ذریعے امتِ مسلمہ کے دفاع اور رہنمائی کے لیے موثر کردار ادا کرنا ہوگا بغیر جلد بازی یا براہِ راست جنگ میں کودے۔
اس وقت جو جنگ اسرائیل نے ایران پر حملے سے چھیڑی ہے، اس میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے اور امتِ مسلمہ کی نظریاتی و اخلاقی رہنمائی بھی پاکستان کو ہی کرنی ہوگی۔اس لیے فیصلے صرف جذبات سے نہیں، بلکہ دانائی، تدبر، اور حکمتِ عملی کے ساتھ کرنے ہوں گے۔اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت ایمان، اخلاص، اور اہلیت سے لیس ہے۔
قوم و قائدین سے اپیل:دشمن کی چالوں کو پہچانو جو ہمیں ایران اور عرب دنیا سے ٹکرانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔یاد رکھو! امتِ مسلمہ کو صرف حکمت، صداقت اور وحدت ہی بچا سکتی ہے نہ کہ جذبات، جلد بازی یا غیر ملکی مفادات کی جنگ۔پاکستان کا اصل سرمایہ:اللہ پر ایمان وتوکل اس کی نظریاتی شناخت، جوہری طاقت، عسکری مہارت، اور قومی اتحاد ہے ان کو ہر حال میں محفوظ رکھنا ہے۔
پاکستان کی عسکری قوت ایک ثابت شدہ حقیقت ‘گزشتہ ماہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملہ جس کا فوری، موثر، اور حکمت پر مبنی عسکری جواب دیا گیا دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کی افواج نہ صرف مستعد، منظم، اور جذبے سے سرشار ہیں، بلکہ اللہ پر ایمان و توکل کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، حکمتِ عملی، اور قیادت کی اہلیت سے بھی لیس ہیں۔اس واقعے نے دنیا کو تین حقائق یاد دلا دیے:تیز ردِعمل کی صلاحیت‘ اعلیٰ فضائی دفاعی مہارت اور ٹیکنیکل قیادت نظریاتی اتحاد اور اچانک حملے کی صورت میں مکمل تیاری یہ واضح پیغام تھا کہ پاکستان نہ صرف جوہری طاقت ہے، بلکہ ہر سطح پر اعصابی، فکری، عسکری، اور سٹریٹجک ردعمل دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستانی فوج کی شجاعت، حکمت اور نظریاتی وابستگی نے اپنی ایمانی قوت کے ساتھ نہ صرف دشمن کے عزائم خاک میں ملائے،بلکہ دنیا بھر میں پاکستان اور عسکری قیادت کو عزت، جرات، اور قیادت کا عالمی سمبل بنا دیا۔ پاکستانی قوم سیاسی اور مذہبی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اپنی قابل فخر عسکری قیادت کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہو جائیں۔ ایسی جنگ تاریخ عالم میں اس سے قبل نہیں ہوئی۔ جس کا آغاز ہوا ہے۔ اللہ ہمیں اس کی مہلک خیزی سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو ایمانی جذبہ و عمل اور اخوت عطا فرمائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: عسکری قیادت پاکستان کی پاکستان کو کے ساتھ کا آغاز

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی