برطانیہ کی خفیہ ایجنسی MI6 کی سربراہی پہلی بار ایک خاتون کے سپرد
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
بلیز میٹرویلی نے 1999ء میں ایم آئی 6 میں شمولیت اختیار کی تھی، وہ اس وقت ایجنسی میں ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے کی سربراہ یعنی ڈائریکٹر جنرل کیو (Q) کے طور پر خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کو اس کی 116 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون افسر کی قیادت حاصل ہو گئی، بلیز میٹرویلی کو MI6 کی نئی چیف مقرر کیا گیا ہے، جو رواں سال ستمبر میں موجودہ سربراہ سر رچرڈ مور کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ بلیز میٹرویلی نے 1999ء میں ایم آئی 6 میں شمولیت اختیار کی تھی، وہ اس وقت ایجنسی میں ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے کی سربراہ یعنی ڈائریکٹر جنرل کیو (Q) کے طور پر خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کا شمار برطانیہ کے قومی سلامتی کے ماہر اور تجربہ کار افسران میں ہوتا ہے، جنہوں نے مشرق وسطیٰ اور یورپ میں کئی اہم مشنز کی قیادت کی۔ وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے ان کی تقرری کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقرری ایک ایسے وقت پر ہوئی جب برطانیہ کو بےمثال سلامتی خطرات کا سامنا ہے، بلیز کی قیادت میں MI6 اپنی ذمہ داریاں مزید مؤثر طریقے سے ادا کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔