data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تل ابیب: اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیبی نے خبردار کیا ہے کہ ایران اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کا مالک ہے، جو خطے کے لیے مسلسل خطرے کی علامت ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیبی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جاری موجودہ کشیدگی کوئی ایسی فیصلہ کن جنگ نہیں جس سے تہران کی عسکری صلاحیتوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہو۔ ان کے بقول، اگرچہ ایران پر کئی حملے کیے جا چکے ہیں لیکن وہ تاحال عسکری طاقت کے اعتبار سے ایک بڑا خطرہ ہے۔

زاچی ہنیبی نے اس سے قبل بھی اعتراف کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محض فوجی کارروائی سے مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، اور اس کے لیے ایک جامع اسٹریٹیجی درکار ہے۔

ادھر اسرائیلی عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ میزائل حملوں میں سینکڑوں راکٹ فائر کیے، اس کے باوجود اندازہ ہے کہ اس کے پاس اب بھی ڈیڑھ سے دو ہزار بیلسٹک میزائل باقی ہیں۔ یہ تخمینہ اسرائیلی دفاعی اداروں کے لیے باعث تشویش بنتا جا رہا ہے۔

اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ ایران کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں کو نظرانداز کرنا خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اور مستقبل قریب میں مزید سخت فیصلے لینے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ ایران کے لیے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد