(پی ایس کیو سی اے)عدالتی حکم کے برخلاف خالد بابلانی ، علی بخش سومرو عہدوں پر برقرار
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
دونوں افسران کو غیر قانونی بھرتی قرار دیا جاچکا ہے ، سندھ ہائی کورٹ فیصلے کو تسلیم نہیں کیا گیا ، محکمہ جاتی ذرائع
بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اگرکوئی سہولت دی تو وہ فیصلہ اعلی عدلیہ میں چیلنج کیا جائے گا ، ملازمین نے آگاہ کردیا
وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماتحت ادارے پی ایس کیو سی اے نے سندھ ہائی کورٹ کراچی کے فیصلے کو ہوا میں اڑا دیا۔ 14 مئی کو ایک فیصلے میں خالد بابلانی اور علی بخش سومرو کو غیر قانونی بھرتی قرار دیا گیا تھا مگر ابھی تک اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔یاد رہے دونوں افسران نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے دونوں افسران میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں، جبکہ ستمبر 2023 میں بھی سابق ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے ڈاکٹر حفیظ اللہ خان نے وفاقی سیکرٹری سائنس اور ٹیکنالوجی کے حکم پر دونوں کے خلاف انکوائری کر کے رپورٹ وزارت میں جمع کروائی تھی جن میں دونوں افسران کو غیر قانونی بھرتی قرار دیا گیا تھا۔دونوں کے خلاف نیب میں انکوائری بھی چل رہی ہے ۔جبکہ علی بخش سومرو دوہرے ڈومیسائل کے فراڈ میں بھی ملوث ہیں۔دوسری طرف معلوم ہوا ہے کہپی ایس کیو سی اے کیبورڈ آف ڈائریکٹرز کو کوئی بھی اتھارٹی نہیں کہ وہ کسی 18 گریڈ والے کو ریگیولر کر سکے۔ایکٹ کی شق 29 کے مطابق صرف کنٹریکٹ ملازمین اور کنسلٹنٹ کی تقرری کو 6 ماہ کے اندر بورڈ کو رپورٹ کرنی ہے ۔ملازمین نے وفاقی وزیر نواب خالد احمد خان مگسی، وفاقی سیکرٹری سائنس اور ٹیکنالوجی ساجد احمد بلوچ اور ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے رضوان احمد شیخ سے اپیل کی ہے کہ سندھ ھائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کروا کے بدنام زمانہ کرپشن کے بادشاہ اور غیر قانونی بھرتی خالد بابلانی اور علی بخش سومرو کو فوری طور برطرف کیا جائے اور ان کے سہولت کاروں کو بھی سزا دی جائے، اور اس اقدام سے پی ایس کیو سی اے سے بدنام افسران کا خاتمہ ہو جائے گا اور ادارے کا کا امیج بھی بہتر ہوگا۔جبکہ اگر بورڈ آف ڈائریکٹرز نے دونوں بدنام افسران کو اگر کوئی بھی سہولت دی تو وہ فیصلہ اعلی عدلیہ میں چیلنج کیا جائے گا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غیر قانونی بھرتی پی ایس کیو سی اے علی بخش سومرو دونوں افسران
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ