data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ویانا :ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے (IAEA) کے سربراہ ماریانو گروسّی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی جوہری تنصیبات کے تحفظ کو خطرے میں ڈال رہی ہے، جس سے تابکاری کے اخراج اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی عالمی کوششوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق اسرائیل ایران کشیدگی پر ایجنسی کے ہنگامی اجلاس میں ابتدائی بیان دیتے ہوئے گروسّی نے رکن ممالک کو آگاہ کیا کہ اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں قائم نطنز فیول انریچمنٹ پلانٹ پر کوئی نیا نقصان نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نطنز تنصیب کے باہر ریڈیو ایکٹیویٹی کی سطح معمول کے مطابق ہے، تنصیب کے اندر بعض کیمیائی اور ریڈیائی آلودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جسے مناسب حفاظتی اقدامات کے ذریعے مؤثر طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

گروسّی نے مزید کہا کہ فردو فیول انریچمنٹ پلانٹ یا خنداب ہیوی واٹر ری ایکٹر، جو زیر تعمیر ہے، پر کوئی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، بوشہر جوہری پاور پلانٹ اور تہران ریسرچ ری ایکٹر کو بھی حالیہ حملوں میں کوئی نقصان نہیں پہنچا،اصفہان کے نیوکلیئر کمپلیکس میں چار عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، جن میں مرکزی کیمیکل لیبارٹری، یورینیم کنورژن پلانٹ، تہران ری ایکٹر فیول مینو فیکچرنگ پلانٹ، اور یو ایف 4 سے یورینیم میٹل پراسیسنگ کا یونٹ شامل ہیں جو زیر تعمیر تھا۔

IAEA سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ زمینی صورتحال پر ایجنسی کے انسپکٹرز سے مسلسل رابطے میں ہیں اور تیار ہیں کہ فوری طور پر متاثرہ فریقین سے ملاقات کر کے جوہری تنصیبات کے تحفظ اور پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں۔

گروسّی نے متنبہ کیا کہ “فوجی کشیدگی انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے، تابکاری کے اخراج کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے سنگین اثرات انسانوں اور ماحول پر مرتب ہو سکتے ہیں، یہ صورتحال سفارتی حل کی سمت جاری کوششوں کو بھی تاخیر کا شکار کر رہی ہے، جو ضروری ہے تاکہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ حاصل کرے۔”

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی