ایران سے 160 پاکستانیوں کو تفتان کے راستے پاکستان پہنچا دیا گیا، امیگریشن حکام
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران میں پھنسے 160 پاکستانیوں کو تفتان کے راستے پاکستان پہنچا دیا گیا ہے۔
امیگریشن حکام کے مطابق پاکستان پہنچنے والوں میں زائرین اور تاجروں سمیت دیگر افراد شامل ہیں، ایران میں زیر تعلیم 152 طلبا و طالبات کو بھی آج تفتان کے راستے پاکستان پہنچایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران میں کتنے پاکستانی زائرین موجود ہیں؟ دفتر خارجہ نے بتادیا
حکام نے بتایا کہ ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں، پاکستان سے ایران جانے والوں کی امیگریشن بند ہے، صرف ایران سے پاکستان آنے کی اجازت ہے۔
امیگریشن حکام کے مطابق ایران میں زیر تعلیم 60طلبا کی 2 بسیں بھی تفتان کے راستے پاکستان میں داخل ہوگئی ہیں جبکہ طلبا کی مزید 2 گاڑیاں بھی پہنچ رہی ہیں، ایران میں زیرتعلیم 152 طلباوطالبات کو بھی آج تفتان کےراستے پاکستان پہنچایاجائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Iran-Israel War 2025 taftan taftan pak iran border.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔