پولیو سے متعلق ہر قسم کے منفی رجحانات ختم کریں، وزیر صحت
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے دورہ کوئٹہ کے دوران انسدادِ پولیو سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جہاں قومی و صوبائی کوآرڈینیٹرز نے وزیر صحت کو پولیو کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اس موقع پر وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے رواں سال اب تک پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ وزیراعظم کی قیادت میں پولیو کے خلاف بھرپور اقدامات جاری ہیں اور رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں پولیو کے خاتمے کے لیے متحد ہیں، ہر قسم کے منفی رجحانات کو مسترد کریں اور بچوں کی ویکسینیشن یقینی بنائیں۔ پولیو کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پولیو ورکرز ہمارے اصل ہیرو ہیں۔ قوم پولیو ورکرز کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے جبکہ علماء، اساتذہ اور بزرگ پولیو مہم میں بھرپور ساتھ دیں۔ پولیو لاعلاج ہے، جبکہ کینسر کا علاج موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں۔ دنیا کے تمام ممالک بشمول مسلم ممالک اس ویکسین کے ذریعے پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی وہی ویکسین استعمال ہو رہی ہے جو دنیا بھر میں دی جا رہی ہے، افغانستان میں طالبان حکومت بھی بھرپور پولیو مہمات چلا رہی ہے۔ پولیو وائرس اب بھی ہمارے درمیان موجود ہے، غفلت نہ برتیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔