آئندہ برسوں میں سٹنٹ یا بائی پاس کی ضرورت نہیں رہے گی، سائنسدانوں کی انقلابی ایجاد کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ڈرکسل یونیورسٹی امریکا کے سائنسدانوں نے ایک انقلابی ایجاد کی ہے جو دل کی بیماریوں کے علاج میں روایتی طریقوں جیسے سٹنٹ یا بائی پاس سرجری کی جگہ لے سکتی ہے۔ یہ ننھی خوردبینی مشینیں، جنہیں مائیکرو روبوٹس یا نانو بوٹس کہا جاتا ہے، انسانی خون کی نالیوں میں سفر کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچتی ہیں جہاں چربی اور کولیسٹرول جمع ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ مشینیں بغیر کسی آپریشن کے ان خطرناک ذرات کو تحلیل کرکے شریانوں کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
سمتھ سونین میگزین کے مطابق، یہ مائیکرو روبوٹس آئرن آکسائیڈ کے ذرات سے بنائے گئے ہیں جو ایک زنجیر کی شکل میں جُڑ کر پیچ دار ساخت اختیار کرتے ہیں۔ ان کا کنٹرول بیرونی مقناطیسی میدان کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ خون کے بہاؤ کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے متاثرہ شریانوں تک باآسانی پہنچتے ہیں۔ ان کا بنیادی کام جمع شدہ چکنائی کو نرم کرنا اور پھر اسے تحلیل کرکے شریانوں کو دوبارہ صحت مند بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: ’ہر بار دوائیاں باہر سے لانا پڑتی ہیں‘، سول اسپتال کوئٹہ میں عوام ادویات سے محروم کیوں؟
یہ نانو مشینیں بائیولوجیکل طور پر انسانی جسم کے لیے محفوظ ہیں، اور اپنے کام کے بعد تحلیل ہو جاتی ہیں۔ محققین کے مطابق، ان روبوٹس کے ذریعے علاج کی کامیابی کی شرح موجودہ طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جبکہ خطرات نہایت کم ہیں۔
اس منصوبے پر دنیا کے 11 تحقیقی ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں، جن میں سوئٹزرلینڈ، جنوبی کوریا، اور امریکا کے سائنسی مراکز شامل ہیں۔ ڈرکسل یونیورسٹی اس منصوبے میں امریکا کی نمائندگی کر رہی ہے، اور رواں سال کے آخر تک جانوروں پر تجربات کا آغاز کیا جائے گا، تاکہ انسانی آزمائش کی جانب پیشرفت ممکن ہو۔
محققین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ان نینو روبوٹس کے ذریعے نہ صرف دل کی بند شریانوں کا علاج ممکن ہو گا بلکہ یہ ٹیکنالوجی کینسر جیسی مہلک بیماریوں کے علاج کے لیے بھی استعمال ہو سکے گی۔ یہ ایجاد بلاشبہ میڈیکل سائنس میں ایک نیا باب کھولنے جا رہی ہے، اور امید ہے کہ آئندہ برسوں میں لاکھوں افراد بائی پاس یا سٹنٹ جیسے مہنگے اور تکلیف دہ علاج سے بچ سکیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دل شریان ڈرکسل یونیورسٹی امریکا سٹنٹ یا بائی پاس سمتھ سونین میگزین مائیکرو روبوٹس یا نانو بوٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دل شریان ڈرکسل یونیورسٹی امریکا سٹنٹ یا بائی پاس سمتھ سونین میگزین مائیکرو روبوٹس یا نانو بوٹس بائی پاس
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :