کوہلی کا ایک لائیک؛ اونیت کی برانڈ ویلیو 30 فیصد بڑھا گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
بھارت کے اسٹار کرکٹر ویرات کوہلی کے ماڈل اونیت کور کی 'نامناسب تصویر' کو لائیک کرنے سے اداکارہ کی برانڈ ویلیو میں 30 فیصد اضافہ ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کی جانب سے انسٹاگرام پر حادثاتی لائیک نے بالی ووڈ اداکارہ کی قسمت کا دروازہ بھی کھول دیا ہے، انکی ایک ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسی کی اسپانسر شدہ پوسٹس کی قیمت 2 لاکھ بھارتی روپوں سے بڑھ کر 2.
اپنی تصویر پر کوہلی کے لائیک کے بعد اونیت کور نے مبینہ طور پر 12 نئے برانڈ کی توثیق کے معاہدے کیے ہیں، اسی طرح اداکارہ سوشل میڈیا پر بحث کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گلیمرس فوٹو شوٹ جاری کیا جو تیزی سے وائرل ہوا جبکہ اسی دوران اداکارہ و ماڈل کے فالوورز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں: اونیت کی تصویر پر ویرات کا لائیک؛ راکل پریت بھی بول اٹھیں
خیال رہے کہ مئی کے آغاز میں اونیت کور کی ایک تصویر پر ویرات کوہلی کے لائیک نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی تھی، جس پر کوہلی کو وضاحت پیش کرنا پڑی، انکا کہنا تھا کہ یہ سب غیر دانستگی میں ہوا، جان بوجھ کر لائیک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: ویرات کوہلی کی ایک ’’غلطی‘‘ نے اونیت کور کی قسمت بدل دی
سابق کپتان ویرات کوہلی نے لکھا تھا کہ فیڈ کو کلیئر کرتے ہوئے شاید الگورتھم نے غلطی سے کوئی انٹریکشن کر لیا، اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہیں۔
مزید پڑھیں: دال میں تو کچھ تو کالا ہے؛ اداکارہ کی بولڈ تصویر لائیک کرنے پر کوہلی صفائیاں دینے لگے
تاہم مداح ویرات کی جانب سے وضاحت کے باوجود انکا نام بالی ووڈ اداکارہ کیساتھ جوڑ رہے تھے، جس سے قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویرات کوہلی اداکارہ کی اونیت کور
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔