انسائیڈرٹریڈنگ کا جرم: پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سزا سنادی گئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے دائر کیے گئے ایک کیس میں سندھ کی بینکوں میں جرائم سے متعلق اسپیشل کورٹ نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انسائیڈر ٹریڈنگ کے جرم میں سزا سنا دی ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق عدالت نے حبیب میٹروپولیٹن بینک لمیٹڈ (ایچ ایم بی) کے اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ (اے وی پی) انویسٹمنٹس مسٹر ذاکر حسین سومجی کو سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کے سیکشن 128 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسائیڈر ٹریڈنگ کا مرتکب پایا۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین عاکف سعید نے قانونی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دے گا اور اس کے نتیجے میں کیپیٹل فارمیشن میں سہولت فراہم کرے گا۔
عاکف سعید نے امید ظاہر کی کہ یہ فیصلہ انسائیڈر ٹریڈنگ اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے زیر التوا کیسز اور جاری تحقیقات کے لیے ایک مثال قائم کرے گا، یہ کیس یکم جنوری 2014 سے 2 فروری 2016 تک کراچی آٹومیٹڈ ٹریڈنگ سسٹم (کے اے ٹی ایس) کے ڈیٹا کے تجزیہ کے ذریعے شناخت کی گئی مشکوک ٹریڈنگ سرگرمی کے ایس ای سی پی کے معائنے سے شروع ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ شبہ تھا کہ ملزم نے ایچ ایم بی میں اپنی حیثیت کی بنا پر بینک کے سرمایہ کاری اور ڈس انویسٹمنٹ کے فیصلوں سے متعلق اندرونی معلومات کا ذاتی فائدے کے لیے غلط استعمال کیا اور تحقیقات کے بعد ایس ای سی پی نے سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کے سیکشن 128 کے تحت باضابطہ شکایت درج کی تھی، جو سیکشن 159 کے تحت قابل سزا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکمل ٹرائل اور ایس ای سی پی کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز کے دلائل سننے کے بعد اسپیشل کورٹ نے 14 جون 2025 کو اپنا فیصلہ سنایا اور عدالت نے ملزم کو سیکشن 128 کے تحت انسائیڈر ٹریڈنگ کا مرتکب ٹھہرایا۔
خصوصی عدالت نے 85 لاکھ 99 ہزار 938 روپے کا جرمانہ عائد کیا جو غیر قانونی فائدے کا تین گنا ہے، یہ رقم سات دنوں کے اندر جمع کرانی ہوگی، بصورت دیگر مجرم کو مکمل ادائیگی تک جیل بھیج دیا جائے گا۔
عاکف سعید نےکہا کہ یہ فیصلہ مستقبل میں نفاذ کی کارروائیوں کے لیے ایک مضبوط مثال قائم کرتا ہے اور ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ مارکیٹ کے غلط استعمال اور ریگولیٹری خلاف ورزیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انسائیڈر ٹریڈنگ ایس ای سی پی کے
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین