Express News:
2026-06-03@06:43:26 GMT

ایران کی فتح

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

یہ درست ہے کہ ’’اسرائیل ایران پر حملہ کرنے والا ہے‘‘کا شور پوری دنیا میں سنا جارہا تھا، اس لیے ایران کو بھی اس کی خبر ہونی چاہیے تھی۔ اگر خبر تھی تو وہ اپنی مسلّح افواج کے چوٹی کے جرنیلوں کی حفاظت کیوں نہ کرسکا۔ اور دشمن اس کے فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائینسدانوں کو قتل کرنے میں کیسے کامیاب ہوا؟ یہ سوال بہت اہم ہیں مگر یہ وقت ایران سے ان سوالوں کے جواب مانگنے کا نہیں بلکہ آزمائش کی اس مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہے۔

اس لیے کہ ہماری طرح ایرانی باشندوں کے سینوں میں بھی لاالہ الاللہ محمدالرسول اللہ کا مقدّس کلمہ موجزن رہتا ہے، اس لیے کہ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ کی طرح تہران اور اصفہان کی مسجدوں سے بھی اللہ اکبر کی تکبیر یں بلند ہوتی ہیں۔

جوبھی اللہ تعالیٰ کو کائنات اور انسانوں کا خالق اور حضرت محمد ؐ کو آخری نبی مانتا ہے اور آخرت پر یقین رکھتا ہے، وہ اُمّتِ مسلمہ کا رکن ہے اور مصیبت کی گھڑی میں اس کی مدد کرنا دنیا بھرکے مسلمانوں کا فرض بن جاتا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر سیّد علی خامینائی اپنی تقریروں میں کسی فرقے کا نہیں صرف اسلام کا نام لیتے ہیں، مخلوق سے نہیں صرف خالق سے مدد مانگتے ہیں اور قرآن سے دوری کو ہی مسلمانوں کے مسائل اور مصائب کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔

اسرائیل کا وزیرِاعظم نیتن یاہو غزہ میں جس طرح معصوم بچوں عورتوں اور نہتّے انسانوں کا قتلِ عام کررہا ہے اس سے واضح ہوچکا ہے کہ اس شخص کا انسانیّت سے کوئی واسطہ نہیں۔ خود اسرائیل کے عوام اور یہودیوں کی کئی تنظیمیں بھی اس کی مذمّت کرچکی ہیں۔ اس کے گرینڈ پلان سے سب باخبر ہیں، کیونکہ وہ اپنے مذموم عزائم کا اظہار کرتا رہتا ہے۔

پورے مڈل ایسٹ پر قبضہ کرنے کے علاوہ ایران کے جوہری اثاثوں کو تباہ کرنا اس کے ایجنڈے کے اہم ترین اہداف ہیں، ایسا کرکے وہ پورے خطّے کا چوہدری بننے کا خواہشمند ہے، اس لیے پاکستان ایران پر اسرائیلی حملے سے لاتعلّق نہیں رہ سکتا۔ ایران کے خلاف اسرائیل کی کھلی جارحیّت اور اس سے پہلے پاکستان پر ہندوستان کا حملہ ایک گرینڈ پلان کا حصّہ ہوسکتا ہے۔ اس میں بھارت اور اسرائیل کو امریکا کی مکمل اشیرباد حاصل تھی اور ہے اور اس کا مقصد ان دونوں مسلم ممالک کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنانا تھا، مگر کائناتوں کے طاقتور ترین شہنشاہ کو اپنے نام لیواؤں کی رسوائی قبول نہ تھی لہٰذا ان کے عزائم ناکام بنادیے گئے۔

 اسرائیل کے حملے سے ایران کی انٹیلیجنس کی ناکامی بہت واضح ہوئی ہے۔ موساد نے ایران کے اندر جس حد تک نیٹ ورک قائم کرلیا تھا وہ بے حد تشویشناک ہے، ایران پر لگی پابندیوں کی وجہ سے اسے بہت مشکلات کا سامنا بھی رہا ہے مگر ایران کو اپنا انٹیلی جنس سسٹم، اپنی ائرفورس، اپنا ائر ڈیفینس سسٹم اور سائبر وارفیئر سسٹم بہت جدید اور مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کی ضرورت تھی جو وہ نہیں کرسکا۔ اسرائیل کو ایران میں موجود اپنے جاسوسوں کے ذریعے اتنی صحیح معلومات مل رہی تھیں کہ اس نے پہلے حملے میں ہی ایران کی پوری عسکری قیادت اور چوٹی کے سائینسدانوں کو قتل کردیا۔

مگر اتنے بڑے نقصان کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ شاید ایران اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ اسرائیل کو جواب دے سکے یا اس پر جوابی حملہ کرسکے مگر ایران کی مذہبی، سیاسی اور عسکری قیادت نے غیر معمولی resilience کا مظاہرہ کیاہے۔ بہت کم وقت میں اپنے وسائل مجتمع کیے اور پلٹ کر اسرائیل پر مسلسل حملے کرکے نہ صرف دنیا کو حیران کردیابلکہ اسرائیلی دفاعی نظام کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے myth کو توڑ کر رکھ دیا ہے ۔ پہلی بار ایران کے میزائلوں سے اسرائیل کے اندر عمارتیں تباہ ہوئی ہیں، سائرن بجے ہیں، لوگ پناہ لینے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔

ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے اگرچہ رکاوٹیں بہت ہیں مگر ان تمام رکاوٹوں اور Interceptions سے بچ کر 1500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کچھ میزائل اسرائیل کے اندر اپنے اہداف سے ٹکرانے میں کامیاب ہوئے جن کی وجہ سے پورے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے، اسرائیل میں ہونے والے جانی نقصان سے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے ایکس پر جاری کیے گئے اس بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ’’ہم ہلاک ہونے والوں کا ملکر سوگ منائیں گے‘‘ 1973کے بعد پہلی بار اسرائیل نے اپنے شہریوں کی ہلاکتوں کا دکھ اور کرب دیکھا ہے، اس سے شاید اس کی درندگی میں کچھ کمی آئے۔

ایران کے ایٹمی اثاثے اور پلانٹ تباہ کرنے کے علاوہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ ہدف (جس کا وہ کئی بار اعلان کرچکے ہیں) وہاں کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے اور موجودہ مذہبی اور سیاسی قیادت کو ہٹاکر ان کی جگہ مصر ، اردن یا شام کی طرح کا کوئی سیٹ اپ لانا چاہتا ہے۔ ایران کے سابق شاہ رضاشاہ پہلوی کا بیٹا بھی انٹرویو دینے کے لیے نیتن یاہو کے پاس حاضری لگا چکا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے اس ہدف کی حمایت میں کئی قلمی کارندے بھی متحرّک ہو چکے ہیں جن میں پاکستان کے بھی کئی چڑی مارکہ تجزیہ کار شامل ہیں۔

پاکستانی لبرلز دین سے بغض رکھنے کی وجہ سے ایران کی مذہبی قیادت کے خلاف ہیں ورنہ اگر کوئی بے دین حکمران اپنے ملک میں انسانی حقوق پامال کرتا رہے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے مودی کی مسلم کش پالیسیوں پر کبھی شدّت سے تنقید نہیں کی اور نہ ہی غزہ میں ہونے والے مظالم کے خلاف کھل کر لکھا ہے۔

اس وقت ایران کے لیے رجیم کا تخفّظ اتنا ہی اہم ہے جتنا خود ملک کا دفاع ۔ ایران کے سپریم لیڈر سیّد علی خامینائی نے اور ان کے بعد ایران کے صدر نے قوم کو اتنے بڑے صدمے میں ہمّت اور حوصلہ دینے، فوراً اُٹھ کھڑا ہونے اور اسرائیل پر جوابی حملہ کرنے کا جذبہ اور جرأت پیدا کرنے میں بے حد اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایران کے عوام اپنی موجودہ قیادت کے بارے میں تخفّظات رکھتے تھے مگر دشمن کے خلاف پوری قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی ہے۔ ویسے بھی ایرانی عوام اپنے دشمنوں کے اکسانے پر نہ حکومت تبدیل کریں گے اور نہ ہی کسی امریکی اور اسرائیلی پٹھوکو قبول کریں گے۔

بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی راء کا بھی ایران میں بڑا مضبوط نیٹ ورک ہے، اس نے بھی دوستی کے روپ میں یقیناً دشمنی کا کردار ادا کیا ہے اور اسرائیل کو اہم ترین معلومات فراہم کی ہیں۔ بھارت کے اس کردار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایران کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور اسے ا ب دوست اور دشمن کا واضح فرق معلوم ہوجانا چاہیے ۔ ایران کو اب اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنی چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان، ترکی ، ملیشیا، ایران، افغانستان، انڈونیشیا، فلسطین (اور بھی جو ملک ساتھ شامل ہوں ) کو مشترکہ دفاعی پالیسی تشکیل دینی چاہیے اور اس ضمن میں چین اور روس کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے۔

مذکورہ مسلم ممالک کے وفود پوری دنیا میں جائیں اور اسرائیل کو ’’انسانوں کا سب سے بڑا دشمن‘‘ اور ’’انسانیت کے لیے سب سے بڑے خطرے‘‘ کے طور پر اس کے گھناؤنے کردار کو دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ دنیا بھر کی حکومتیں اور عوام دونوں اس سے متنفّر ہوں اور اس سے ہر قسم کا ناطہ توڑ لیں۔ اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے خطرناک عزائم دیکھ کر پاکستان کو ایٹمی قوّت بنانے والے افراد کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں، اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، ڈاکٹر ثمر مبارک اور میاں نواز شریف نمایاں ہیں، لیکن ان کے علاوہ بھی بیشمار غیر معروف ہیرو ہیںجنھوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔

اﷲ تعالیٰ پاکستان کے ان محسنوں پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں۔ پاکستان کو ایک جنگِ مسلسل کا سامنا ہے، اس کے لیے آنکھ جھپکنے کی سستی بھی گوارہ نہیں۔ اﷲ کا حکم ہے کہ اپنے گھوڑے تیار رکھو یعنی اپنا جنگی سازوسامان اور جنگی تیاریاں مکمل رکھو۔ مسلم دنیا کے عظیم جرنیل صلاح الدّین ایّوبی کہا کرتے تھے کہ جنگ آپڑے تو جنگ میں حصّہ لو اور جنگ ختم ہوجائے تو جنگ کی تیّاری میں لگ جاؤ۔ شاعرِ مشرق درست کہہ گئے ہیں،

؎ تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

پاکستان اور ترکی ہی نہیں تمام مسلم ممالک کو کھل کر ایران کی مدد کرنی چاہیے اگر مزید ایک ہفتے تک ایران کے بیلسٹک میزائل اسرائیل کی عمارتوں سے ٹکراتے رہے اور سپریم لیڈر اور صدر محفوظ رہے تو پھر وہ اسرائیل کی شکست اور ایران کی فتح ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور اسرائیل اسرائیل کو اسرائیل کے ایران کی ایران کے کے خلاف اس لیے اور اس ہے اور

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار