ایران-اسرائیل جنگ، یو اے ای نے ایئرپورٹ آپریشنز جاری رکھنے کے لیے کیا اہم فیصلے کیے؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
متحدہ عرب امارات نے خطے میں حالیہ سیاسی و جغرافیائی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر، ملک بھر میں ایئرپورٹس کی روانی برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔ یہ بات امارات کی فیڈرل اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سیکیورٹی (ICP) نے منگل کو جاری بیان میں کہی۔
اتھارٹی کے مطابق، بعض ممالک کی جانب سے فضائی حدود بند کیے جانے کے تناظر میں، تمام آپریشنل اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کی محفوظ اور بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جاسکے اور خدمات کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہ ہو۔
بیان میں کہا گیا کہ ICP نے اپنی منظوری شدہ ہنگامی کاروباری تسلسل کا منصوبہ فوری طور پر فعال کر دیا تھا تاکہ ممکنہ خلل سے بچا جا سکے۔ اس منصوبے میں واضح آپریشنل اور ریگولیٹری طریقہ کار شامل ہیں، جنہیں حکمت عملی شراکت داروں کے تعاون سے نافذ کیا گیا۔
ایئرپورٹس پر ہمہ وقت تیار رہنے اور فوری ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے عملے میں اضافہ کیا گیا ہے، جنہیں جدید آپریشنل سہولیات سے لیس کیا گیا ہے اور وہ 24 گھنٹے دستیاب ہیں۔
مزید پڑھیں: ’اصل کارروائی ابھی باقی ہے‘، ایرانی فوج کی اسرائیلی شہریوں کو حیفا اور تل ابیب چھوڑنے کی وارننگ
اتھارٹی نے مزید بتایا کہ فضائی بندش کی وجہ سے متاثرہ یا پھنسے ہوئے مسافروں کی دیکھ بھال کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے رابطے میں رہتے ہوئے ان کو عارضی رہائش، لاجسٹک سہولیات اور درست معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ICP کے مطابق، اماراتی ایئرپورٹس پر مسافروں کے داخلے کے لیے ایک مؤثر اور آسان نظام نافذ کیا گیا ہے جو موجودہ آپریشنل حالات سے ہم آہنگ ہے۔ سپورٹ ٹیمیں مسافروں کو براہِ راست رہنمائی فراہم کر رہی ہیں اور ملکی ایئرلائنز کے ساتھ فلائٹ شیڈیول کی از سرِ نو ترتیب کے لیے فوری ہم آہنگی جاری ہے۔
اتھارٹی نے ان غیر معمولی علاقائی حالات میں مسافروں کے تعاون اور سمجھ داری کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر ممکن قدم اٹھائے گی تاکہ ہنگامی صورت حال میں بھی تمام مسافروں کی حفاظت اور سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
یومیہ 1,400 پروازیں مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرتی ہیںفضائی تجزیاتی ادارے Osprey Flight Solutions کے مطابق، حالیہ واقعات نے عالمی ہوا بازی کو درپیش بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل خطرات کو اجاگر کیا ہے، جن کی وجہ سے ایئرلائنز کو فضائی راستے تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ کچھ پروازوں کو وسطی ایشیا یا عرب خطے سے گزارا جا رہا ہے، جس کے باعث ایندھن کے اخراجات، پرواز کا دورانیہ اور شیڈیول میں خلل بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی یونین آف جرنلسٹس کا غزہ و ایران میں صحافیوں کے قتل پر اسرائیل کے خلاف احتجاج
یوروکنٹرول کے اعداد و شمار کے مطابق، یورپ، ایشیا اور خلیجی ممالک کے درمیان روزانہ قریباً 1,400 پروازیں مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرتی ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں کسی بھی اچانک فضائی بندش سے عالمی فضائی نقل و حمل پر کتنا سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔
خطرات کے پیش نظر، متعدد عالمی ہوابازی کے ریگولیٹری اداروں نے ایئرلائنز کو انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ سیف ایئر اسپیس کی رپورٹ کے مطابق، ابوظہبی کے زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دبئی ایئرپورٹس نے بھی مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی ایئرلائنز سے رابطے میں رہیں کیونکہ شیڈیول میں اچانک تبدیلی ممکن ہے۔
ہوابازی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بدلتی ہوئی صورتحال کسی بڑے علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جو عالمی تجارت، معیشت اور نقل و حمل کے نظام پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ تمام ایئرلائنز، ریگولیٹرز اور متعلقہ ادارے صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ فضائی راستوں میں ممکنہ تبدیلیوں کے لیے پیشگی تیاری کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئرپورٹ آپریشنز ایران اسرائیل جنگ متحدہ عرب امارات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئرپورٹ آپریشنز ایران اسرائیل جنگ متحدہ عرب امارات کے مطابق کیا گیا کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔