اسرائیل کا ایران کے بیلسٹک میزائل لانچنگ سائٹس پر حملہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرن نے تصدیق کی ہے کہ ملکی فضائیہ نے ایرانی شہر اصفہان میں واقع بیلسٹک میزائل لانچنگ سائٹس پر حملے کیے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس حملے کی موجودہ لہر میں 12 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے 70 سے زائد میزائل بیٹریوں کو تباہ کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں متعدد میزائل لانچرز اور ریڈار سسٹمز بھی تباہ کیے گئے، جن کا مقصد اسرائیلی حملوں کو روکنا تھا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ مطابق حالیہ دنوں میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے پانچ مراحل پر مشتمل فضائی حملے کیے جن کا مقصد ایران کے فضائی دفاع کو کمزور کرنا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کی ان کارروائیوں نے ہمیں تہران سمیت ایران کے اندرونی اہداف تک رسائی کا راستہ ہموار کیا۔
یہ کارروائیاں ایران کے تین اہم جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کے بعد کی جا رہی ہیں، جن میں اصفہان بھی شامل ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے تین اہم ذخیرے اور لانچنگ مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کامیاب کارروائیوں کے باعث ایرانی افواج مغربی علاقوں سے پیچھے ہٹ کر مرکزی ایران تک محدود ہوگئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اب ایران اور اس کے اتحادیوں کے لیے کوئی شہر محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا۔ ہم نے جس طرح حماس اور حزب اللہ کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا، اسی طرح ایرانی اعلیٰ حکام بھی ہدف پر ہیں۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تہران کے گنجان آباد علاقوں میں ایرانی فضائی دفاع اسرائیلی حملوں کا جواب دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کے ترجمان ایران کے کو نشانہ گیا ہے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔