ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ایران کے سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران کے پُرامن جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری تھے، عین اُسی وقت اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا تاکہ ان سفارتی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

صدر پزیشکیان نے منگل کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت بین الاقوامی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہی ہے۔ اور اگر اس کے جرائم کا سلسلہ جاری رہا تو خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کا حصول ممکن نہیں رہے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے اسرائیل ایران کشیدگی: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ابتدا ہی سے نہ صرف داخلی سطح پر اتحاد اور ہم آہنگی کے خواہاں رہے ہیں بلکہ خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعمیری تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

صدر پزیشکیان نے اس موقع پر اس واقعے کا بھی ذکر کیا جس میں فلسطینی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو تہران میں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ایران کی قیامِ امن کی کوششوں کو متاثر کرنے کے لیے کی گئی۔

متحدہ عرب امارات کا ایران سے اظہار یکجہتی

ٹیلیفونک گفتگو میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان سے یکجہتی کا اظہار کیا اور ایرانی حکومت، عوام کے ساتھ مکمل ہمدردی کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے خطے میں کشیدگی میں کمی لانے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے وسیع مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایران نے کسی جنگ میں پہل کی نہ اسرائیل پر حملہ کیا — ایراوانی کا اقوام متحدہ کو خط

خطے کے دو اہم ترین ممالک کے رہنماؤں کے مابین یہ سفارتی رابطہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہےاور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے غیر مشروط طور پر سرنڈر کرنے  کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان بات چیت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل ایران متحدہ عرب امارات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایران متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات کے درمیان ایران کے انہوں نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم