مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید تنازع کے تناظر میں پاکستان نے اہم حفاظتی اقدام کے طور پر ایران میں تعینات سفارت کاروں کے اہلِ خانہ اور غیر ضروری عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دفتر خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستانی سفارتی مشنز کے اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر ایران سے نکالا جا رہا ہے۔ اسی طرح کچھ غیر ضروری عملہ بھی وطن واپس بلایا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں اسرائیل۔ایران جنگ میں امریکی شمولیت کے کیا امکانات ہیں؟

سفارتی مشنز معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گے

حکام کے مطابق تہران میں پاکستانی سفارت خانہ اور دیگر شہروں میں قائم قونصل خانے بدستور فعال رہیں گے اور معمول کے مطابق اپنی سفارتی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کو قونصلر خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کا خلل نہیں آنے دیا جائے گا۔

ایران اسرائیل کشیدگی اور جنگی صورتحال

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اسرائیل کے حالیہ حملوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی افسران اور ایٹمی سائنسدانوں سمیت 227 افراد شہید ہوچکے ہیں، جس کے بعد سے ایران کی جانب سے بھی بھرپور جوابی کارروائیاں جاری ہیں، اور اسرائیل میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں اسرائیلی شہری ایرانی حملوں سے خوفزہ، سمندری راستے سے فرار ہونے لگے

ایران میں مقیم پاکستانیوں کے لیے ہدایات

دفتر خارجہ نے ایران میں موجود پاکستانیوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریبی پاکستانی مشن سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سفارت خانے کی ہیلپ لائنز اور ایمرجنسی نمبرز کے ذریعے رہنمائی اور معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایران پاکستان سفارتی عملہ واپسی کا فیصلہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران پاکستان سفارتی عملہ واپسی کا فیصلہ وی نیوز ایران میں کے مطابق

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری