ایران میں تعینات پاکستانی سفارتی عملے کے اہلِ خانہ اور غیر ضروری اسٹاف کے انخلا کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید تنازع کے تناظر میں پاکستان نے اہم حفاظتی اقدام کے طور پر ایران میں تعینات سفارت کاروں کے اہلِ خانہ اور غیر ضروری عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دفتر خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستانی سفارتی مشنز کے اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر ایران سے نکالا جا رہا ہے۔ اسی طرح کچھ غیر ضروری عملہ بھی وطن واپس بلایا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں اسرائیل۔ایران جنگ میں امریکی شمولیت کے کیا امکانات ہیں؟
سفارتی مشنز معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گےحکام کے مطابق تہران میں پاکستانی سفارت خانہ اور دیگر شہروں میں قائم قونصل خانے بدستور فعال رہیں گے اور معمول کے مطابق اپنی سفارتی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کو قونصلر خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کا خلل نہیں آنے دیا جائے گا۔
ایران اسرائیل کشیدگی اور جنگی صورتحالیہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اسرائیل کے حالیہ حملوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی افسران اور ایٹمی سائنسدانوں سمیت 227 افراد شہید ہوچکے ہیں، جس کے بعد سے ایران کی جانب سے بھی بھرپور جوابی کارروائیاں جاری ہیں، اور اسرائیل میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں اسرائیلی شہری ایرانی حملوں سے خوفزہ، سمندری راستے سے فرار ہونے لگے
ایران میں مقیم پاکستانیوں کے لیے ہدایاتدفتر خارجہ نے ایران میں موجود پاکستانیوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریبی پاکستانی مشن سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سفارت خانے کی ہیلپ لائنز اور ایمرجنسی نمبرز کے ذریعے رہنمائی اور معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایران پاکستان سفارتی عملہ واپسی کا فیصلہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران پاکستان سفارتی عملہ واپسی کا فیصلہ وی نیوز ایران میں کے مطابق
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین