لاہور:

ایران اسرائیل جنگ کے سبب ملک بھر میں ایل پی جی کے سنگین بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا، ایل پی جی ایسوسی ایشن نے حکومت سے گیس کی فوری امپورٹ کی اپیل کردی۔

ایل پی جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ  پاکستان میں ایل پی جی کا تاریخ ساز شارٹ فال کا خدشہ ہے، حکومت ایل پی جی کی امپورٹ کے لیے فوری طور پر خصوصی بندوبست کرے ورنہ پاکستان میں ایل پی جی کا شارٹ فال شروع ہو جائے گا۔

عرفان کھوکھر نے کہا کہ بحران کے سبب گھریلو سلنڈر کی قیمت 5000 سے 6000 ہزار روپے سے بھی زیادہ  ہو سکتی ہے، فی کلو کی قیمت 450 سے 500 روپے تک متوقع ہے، کمرشل سلنڈر 20,000 روپے سے 23,000 روپے تک پہنچ جائے گا۔

چیئرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں ایل پی جی کی یومیہ کھپت 6000میٹرک ٹن ہے، مقامی پیداوار ماہانہ 60,000سے 70,000 میٹرک ٹن ہے، پورٹ قاسم پر موجود ایل پی جی ٹرمینل ایس ایس جی سی اور ای وی ٹی ایل کی اسٹوریج 6500میٹرک ٹن ہے، پورٹ قاسم پر ٹوٹل اسٹوریج 13000میٹرک ٹن ہے جوکہ پاکستان کیلئے ناکافی ہے، بنگلہ دیش جیسے ملک میں ایل پی جی کی اسٹوریج 300,000میٹرک ٹن ہے، فوری طور پر پاکستان کی ایل پی جی اسٹوریج میں اضافہ کیا جائے۔

عرفان کھوکھر نے کہا کہ پاک ایران بارڈر سے 100,000 میٹرک ٹن ماہانہ ایل پی جی کی درآمد کی جاتی تھی جبکہ اس وقت بارڈر بند ہے، پاکستان میں ایل پی جی کی مقامی پیداواری کمپنی OGDCL کو مافیا کے ہاتھ سے حکومت اپنی تحویل میں لے، ایس ایس جی سی، پی ایس او اور پارکو کے ذریعے پاکستان کی تمام ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں میں پی پی ایل کے فارمولے کے تحت بیڈ کے ذریعے تقسیم کی جائے، OGDCL کی گیس اس وقت گیس مافیا کے ہاتھ میں ہے، مقامی پیداواری گیس زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟

عرفان کھوکھر نے مزید کہا کہ تمام ڈسٹری بیوٹرز اور دکان دار کو چاہیے کے اپنا اسٹاک فل رکھیں، ہماری جانب سے وزیراعظم پاکستان اور وزیر پٹرولیم کو درخواست لکھ دی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں ایل پی جی ایل پی جی کی

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم