ایران سے 800 چینی شہری محفوظ مقام پر منتقل
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکن نے کہا ہے کہ 800 چینی شہریوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا گیا ہے، ایک ہزار چینی شہری ابھی تک ایران میں موجود ہیں، جنگ کے دوران کسی چینی کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کچھ چینی شہری اسرائیل سے بھی باحفاظت نکالے گئے ہیں۔ اب تک 791 چینی شہریوں کو ایران سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جب کہ مزید 1,000 سے زائد افراد کے انخلا کا عمل جاری ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چینی شہریوں نے اسرائیل پہلے ہی چھوڑ دیا ہے، جنگ کے دوران کسی چینی کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے، چین اپنے شہریوں کو ایران اور اسرائیل چھوڑنے کی ہدایات پہلے ہی جاری کرچکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔