جی سیون ممالک چین کے داخلی امور میں مداخلت بند کریں اور تعمیری رویہ اپنائیں، چینی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
بیجنگ:چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے معمول کی پریس کانفرنس میں کہا کہ جی سیون ملکوں نے ایک بار پھر چین سے متعلق امور بالخصوص امور تائیوان، ساوتھ چائنا سی، ایسٹ چائنا سی جیسے معاملات پر نامناسب باتیں کی ہیں۔ مذکورہ ممالک نے چین سے متعلق نام نہاد “حد سے زیادہ پیداواری صلاحیت” اور “مارکیٹ بگاڑ” کا جھوٹا بیانیہ اپنایا۔ اس اقدام نے چین کے داخلی امور میں مداخلت اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، جس کی چین بھرپور مخالفت کرتا ہے اور اس کا سخت نوٹس لیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اس وقت آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کے لئے سب سے بڑا نقصان دہ عنصر “تائیوان کی علیحدگی ” سے متعلق سرگرمیاں اور غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت ہیں۔ اگر جی سیون کو واقعی آبنائے تائیوان میں امن کی فکر ہے تو انہیں ایک چین کے اصول کی پاسداری کرنی ہوگی، “تائیوان کی علیحدگی ” کی سخت مخالفت کرنی ہوگی اور چین کی وحدت کی حمایت کرنی ہوگی۔اس وقت ساوتھ چائنا سی اور ایسٹ چائنا سی کی صورت حال مجموعی طور پر مستحکم ہے، جی سیون کو علاقائی ممالک کی جانب سے مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے مسائل حل کرنے اور امن و استحکام کی مشترکہ کوششوں کا احترام کرنا چاہئے، اور سمندری مسائل کا بہانہ بنا کر علاقائی ممالک کے تعلقات کو بھڑکانے اور خطے میں تناؤ پیدا کرنے سے باز رہنا چاہئے۔ترجمان نے تجارتی امور کے حوالے سے کہا کہ جی سیون ممالک اس آڑ میں تجارتی تحفظ پسندی کے تحت، درحقیقت چین کی صنعتی ترقی کو روکنے اور دبانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔چین ایک بار پھر جی سیون ممالک کو عالمی ترقی کے نمایاں رجحانات کو سمجھنے، سرد جنگ کی سوچ اور نظریاتی تعصب کو ترک کرنے، چین کے داخلی امور میں مداخلت بند کرنے، تنازعات اور مخالفت کو بھڑکانے سے باز رہنے اور عالمی برادری کے مفاد میں مثبت کردار ادا کرنے پر زور دیتا ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چائنا سی جی سیون چین کے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔