انٹرلوب نے بونی ڈون کے حقوق حاصل کرلیے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل برآمدی کمپنیوں میں سے ایک انٹرلوب لمیٹڈ کی الحاق شدہ کمپنی ہے نے معروف لیگ ویئر برانڈ بونی ڈون کے عالمی تجارتی حقوق حاصل کرلیے ہیں۔انٹرلوب نے بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری نوٹس میں بتایا کہ اس سودے میں بونی ڈون برانڈ سے متعلق تمام عالمی ٹریڈ مارکس، اسٹاک اور ای کامرس انفرااسٹرکچر شامل ہیں جو کمپنی کی جانب سے ایک اسٹریٹجک توسیعی قدم ہے۔نوٹس کے مطابق ہم یہ اطلاع دیتے ہوئے خوش ہیں کہ انٹرلوب لمیٹڈ کی الحاق شدہ کمپنی ٹیکسٹائل حب بی وی نے بونی ڈون بی وی سے بونی ڈون برانڈ حاصل کرلیا ہے، جو ایک معروف اور معتبر لیگ ویئر برانڈ ہے۔ انٹرلوپ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شامل بڑی لسٹڈ کمپنیوں میں سے ایک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بونی ڈون
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔