سید باقر الحسینی انجمن امامیہ بلتستان کے دوبارہ صدر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
سید باقر الحسینی اور شیخ محمد علی مظفری کو جمہوری عمل کے ذریعے جنرل باڈی کے ممبران نے ووٹ دیا جس کے نتیجے میں سید باقر الحسینی بھاری اکثریت سے دوبارہ صدر منتخب ہو گئے۔ الیکشن کمشنر وزیر شکیل نے نتائج کا اعلان کیا۔ اسلام ٹائمز۔ سید باقر الحسینی انجمن امامیہ بلتستان کے دوسری مرتبہ صدر منتخب ہو گئے۔ انجمن کی صدارت کیلئے الیکشن کا عمل سکردو میں منعقد ہوا۔ صدارت کے تین امیدواروں کا اعلان کیا گیا تھا، جن میں سید باقر الحسینی، شیخ محمد علی مظفری اور شیخ زاہد علی زاہدی شامل تھے۔ شیخ زاہد الیکشن سے دستبردار ہو گئے، سید باقر الحسینی اور شیخ محمد علی مظفری کو جمہوری عمل کے ذریعے جنرل باڈی کے ممبران نے ووٹ دیا جس کے نتیجے میں سید باقر الحسینی بھاری اکثریت سے دوبارہ صدر منتخب ہو گئے۔ الیکشن کمشنر وزیر شکیل نے نتائج کا اعلان کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید باقر الحسینی ہو گئے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔