data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) راشد منہاس روڈ پر تیز رفتار ریتی بجری سے بھرا ڈمپر ڈبل کیبن گاڑی پر الٹ گیا، جس کے نتیجے میں 55 سالہ خاتون شاہینہ نعیم اور 7 سالہ بچی عائشہ دختر خرم جاں بحق ہو گئیں، جبکہ ایک خاتون انعم اور ڈبل کیبن کا ڈرائیور زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد ڈمپر کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔حادثہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً سوا تین بجے سی او ڈی کے قریب پیش آیا۔ ڈمپر فٹ پاتھ پر چڑھ کر برابر سے گزرتی ڈبل کیبن (KT-9478) پر الٹ گیا۔ گاڑی مکمل طور پر ریتی کے نیچے دب گئی۔ اطلاع پر پولیس، رینجرز، چھیپا، ایدھی اور دیگر ریسکیو ادارے موقع پر پہنچے۔ تین گھنٹے کی جدوجہد کے بعد کرین اور لفٹر کی مدد سے گاڑی کو نکالا گیا اور لاشیں جناح اسپتال منتقل کی گئیں۔جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا گیا ہے، جو اسکیم 33، سپر ہائی وے روک کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی تھے۔ چھیپا ترجمان کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ ڈمپر ڈرائیور نشے میں معلوم ہوتا تھا۔ پولیس کے مطابق ڈمپر اور ریتی تھانے منتقل کر دی گئی ہے جبکہ ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔ حادثے کے باعث ملینیئم مال سے شارع فیصل جانے والی سڑک بند ہوگئی اور علاقے میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ واضح رہے کہ کمشنر کراچی کی ہدایت پر ضلع ملیر میں ریتی بجری نکالنے پر دفعہ 144 نافذ ہے۔ اس کے باوجود مختلف تھانوں کی حدود سے رات کے وقت ریتی شہر میں لائی جاتی ہے۔ حادثہ بھی غیر قانونی طور پر بھرے گئے تیز رفتار ڈمپر اور غفلت کے شکار ڈرائیور کی وجہ سے پیش آیا، جو الٹنے کے باوجود فرار ہوگیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈبل کیبن

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور