data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ نے سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کرلیا، بل کے تحت گریڈ 17 اور اس سے زیادہ گریڈ کے افسران شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کے پابند ہوں گے، فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت ہوا، سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم کے تحت ملک بھر کے سرکاری افسران بھی اپنے اثاثے ظاہر کریں گے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ملک بھر میں سیاست دان اپنے اثاثے ظاہر کرتے ہیں، بل کے متن کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے زاید کے افسران شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثے ڈکلیئر کریں گے، گریڈ 17 سے اوپر کے افسران اپنے غیر ملکی اور ملکی اثاثے اور واجبات ڈکلیئر کریں گے۔ مالی تفصیلات فیڈرل بورڈ اف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر فائل کی جائیں گی، جن تک عوام کو رسائی حاصل ہوگی، تاہم یہ انکشافات عوامی مفادات اور شخص کی پرائیویسی اور سیکورٹی کے درمیان توازن کو مد نظر رکھ کر کیے جائیں گے۔ یہ ترمیم معلومات تک رسائی کے ایکٹ کے تحت ہے، اس کا مقصد رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت اثاثہ جات کے اعلان کو یقینی بنانا ہے، تاکہ گریڈ 17 سے 22 کے اعلیٰ عہدیداران کے ملکی اور غیر ملکی اثاثے عوام کے لیے قابل رسائی ہوں، اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل فائل کی جائیں گی۔ سینیٹ میں فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا، خاتون کو سرعام برہنہ کرنے اور ہائی جیکر کو پناہ دینے پر سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، بل کے متن کے مطابق خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر ملزم کو وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا جاسکے گا۔ خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر ابتدائی طور پر وارنٹ جاری کیا جائے گا، ایسا مجرمانہ حملہ کرنا ناقابل ضمانت جرم اور ناقابل مصالحت ہوگا، خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر مجرم کو عمر قید، جائیداد کی ضبطگی اور جرمانہ ہوگا۔ ہائی جیک کرنے والے کو پناہ دینے والے کے لیے سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی، ہائی جیک کرنے والے کو پناہ دینے والے کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جائے گا، ہائی جیک کرنے والے کو پناہ دینے والے کا ابتدائی طور پر وارنٹ جاری کیا جائے گا، ہائی جیک کرنے والے کو پناہ دینا ناقابل ضمانت اور نا قابل مصالحت ہوگا، ہائی جیک کرنے والے کو پناہ دینے والے کو عمر قید اور جرمانہ ہو گا۔ بعد ازاں سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹرز کی بجٹ پر تقاریر کا سلسلہ بھی جاری رہا، سینیٹر عبد القادر، حسنہ بانو، روبینہ قائم خانی نے بجٹ سے متعلق اپنی سفارشات پیش کیں، اجلاس کی کارروائی آج( جمعہ ) صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں ترمیم کا بل مجرمانہ حملہ گریڈ 17 کے تحت

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور