مریخ مشن کو دھچکا، اسپیس ایکس کا اسٹارشپ تجربے کے دوران پھٹ گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ایلون مسک کے اسپیس ایکس پروگرام کو ایک اور بڑا دھچکا لگ گیا، دنیا کا سب سے طاقتور راکٹ اسٹارشپ-36 ٹیکساس میں ایک معمول کے تجربے کے دوران زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، یہ واقعہ اسٹار بیس لانچ پر پیش آیا۔
کیمرون کاؤنٹی انتظامیہ کے مطابق اسٹارشپ ناکامی کے بعد دھماکے سے تباہ ہوگیا، فیس بک پر جاری کی گئی ویڈیو میں راکٹ کو لانچ آرم سے منسلک دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد ایک شدید چمک اور آگ کا بلند شعلہ دکھائی دیتا ہے۔
اس حوالے سے اسپیس ایکس نے ایک بیان میں کہا کہ راکٹ دسویں تجرباتی پرواز کی تیاری کر رہا تھا کہ اسٹار بیس کے ٹیسٹ اسٹینڈ پر ایک بڑی خرابی دیکھنے میں آئی۔
کمپنی نے واضح کیا کہ تمام حفاظتی اقدامات موجود تھے اور تمام عملہ محفوظ اور خیریت سے ہے۔ کمپنی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مقام کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ ابھی سیفٹی آپریشنز جاری ہیں۔
دھماکہ ایک روایتی اسٹیٹک فائر ٹیسٹ کے دوران پیش آیا، جس میں راکٹ کو زمین سے باندھ کر انجنوں کو چلایا جاتا ہے تاکہ لانچ سے قبل سسٹمز کو پرکھا جا سکے، یہ عمل راکٹ کو فضا میں جانے سے روکنے کےلیے کیا جاتا ہے۔
اسٹارشپ 123 میٹر (403 فٹ) اونچا اور دنیا کا سب سے بڑا اور طاقتور راکٹ ہے، یہ مکمل طور پر قابلِ استعمالِ راکٹ ہے، جو 150 میٹرک ٹن تک کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ ایلون مسک کا خواب ہے کہ اسٹارشپ کے ذریعے انسانوں کو مریخ تک پہنچایا جائے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسٹارشپ ناکام ہوا ہو، مئی کے آخر میں ایک اور اسٹارشپ انڈین اوشن کے اوپر دھماکے سے تباہ ہو گیا تھا، اس سے پہلے دو تجربات بھی ناکامی کا شکار ہوئے۔
ناسا بھی اسپیس ایکس پر انحصار کر رہا ہے، خصوصاً ان کے ڈریگن اسپیس کرافٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر خلانوردوں کی آمد و رفت کے لیے۔
امریکا کے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے حال ہی میں سالانہ اسٹارشپ تجربات کی تعداد 5 سے بڑھا کر 25 کر دی ہے، اگرچہ ماحولیاتی تنظیموں نے اس پر اعتراض کیا تھا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسپیس ایکس
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔