چین اور نیوزی لینڈ کے تعلقات بین الاقوامی تقاضوں پر پورا اترے ہیں، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
بیجنگ :چین کے صدر شی جن پھنگ سے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹو فر لوکسن نے ملاقات کی۔جمعہ کے روز شی جن پھنگ نے کہا کہ 50 سال قبل سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے چین اور نیوزی لینڈ کے تعلقات بدلتے ہوئے بین الاقوامی تقاضوں پر پورا اترے ہیں اور دونوں فریق ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے ساتھ ساتھ آگے بڑھے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور نیوزی لینڈ کو دوطرفہ تعلقات میں تعاون کو زیادہ اہمیت دینی چاہئے، اپنے تکمیلی فوائد کو مکمل طور پر بروئے کار لانا چاہئے، تجارت اور سرمایہ کاری تعاون کو گہرا کرنا چاہئے، سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات سے فائدہ اٹھانا چاہئے، تعلیم، ثقافت، نوجوانوں، عوامی اور مقامی تبادلوں کو مضبوط بنانا چاہئے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید معنیٰ خیز بنانا چاہئے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور نیوزی لینڈ کے درمیان کسی قسم کے کوئی تاریخی مسائل اور بنیادی اختلافات نہیں ہیں۔ چین اور نیوزی لینڈ کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئے، اختلافات سے نمٹتے ہوئے مشترکہ مقاصد کی جستجو کرنی چاہئے.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چین اور نیوزی لینڈ نیوزی لینڈ کے بین الاقوامی شی جن پھنگ میں تعاون تعاون کو چین کے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔