خیبر پختونخوا میں تنازعات کے متبادل حل، جرگہ سسٹم کی بحالی کا جائزہ لینے کیلئے 18رکنی کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں تنازعات کے متبادل حل، جرگہ سسٹم کی بحالی کا جائزہ لینے کیلئے 18رکنی کمیٹی تشکیل WhatsAppFacebookTwitter 0 20 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں تنازعات کے متبادل حل اور جرگہ سسٹم کی بحالی کا جائزہ لینے کے لیے 18 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی صوبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے ایک ماہ کے اندر وزیر اعظم کو تجاویز پیش کرے گی۔ وزیراعظم ہاوس سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا کے لیے 18 رکنی کمیٹی تشکیل دی ، جس کا بنیادی مقصد اس امر کا جائزہ لینا ہے کہ صوبے میں تنازعات کے متبادل حل کے لیے جرگہ سسٹم کو کیسے بحال کیا جائے اور سول انتظامیہ کو کیسے بااختیار بنایا جائے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جرگہ ارکان صوبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مل کر مشاورت کریں گے اور آئین اور عدلیہ کی نگرانی میں ایسے تجاویز مرتب کریں گے جو کہ ہر مکتبہ فکر کے شہریوں کے لیے قابل قبول بھی ہو اور آئین سے متصادم بھی نہ ہو۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی ارکان ایک ماہ کے اندر اپنی سفارشات مرتب کرے اور وزیر اعظم کو پیش کرے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر سیفران انجنیئر امیر مقام کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کردیا گیا ہے۔دیگر ارکان میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ شریک کنوینر ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا یا ان کا نمائندہ ، گورنر خیبر پختونخوا یا ان کا نمائندہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ شکیل درانی، ڈاکٹر محمد جہانزیب خان ، صلاح الدین محسود، سیکرٹری کشمیر امور گلگت بلتستان اور ریاستی و سرحدی امور ، سیکرٹری منصوبہ بندی، ترقیات اور خصوصی اقدامات ، سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن ، سیکرٹری داخلہ و انسداد منشیات، سیکرٹری بیرون ملک پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی،چیف سیکرٹری حکومت خیبرپختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخواہ سمیت جنرل ہیڈکوارٹرز کا نمائندہ اور ایم او ڈائریکٹوریٹ کا نمائندہ بھی وزیر اعظم کمیٹی کا رکن ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیب لاہور نے ملزمان سے 2ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرادیے نیب لاہور نے ملزمان سے 2ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرادیے مودی کے جنگی جنون نے خطے کو ایٹمی تصادم کے دہانے پر لاکھڑا کیا، عالمی ادارے کی وارننگ اسرائیلی فوج کاایرانی میزائل روکنے کے دفاعی سسٹم میں خرابی کا اعتراف اسرائیلی عوام کو ایران کے ساتھ طویل جنگ کا خوف، ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر نادرا نے قومی شناختی کارڈ قواعد 2002 میں اہم ترامیم کا نفاذ کر دیا ورلڈ بینک اور پنجاب حکومت کا 10سالہ سماجی ترقیاتی منصوبے پر اتفاقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں تنازعات کے متبادل حل خیبر پختونخوا کمیٹی تشکیل کا نمائندہ جرگہ سسٹم کا جائزہ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔