سینیٹ کمیٹی نے پبلک فنانس منیجمنٹ ترمیمی ایکٹ کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پبلک فنانس منیجمنٹ ترمیمی ایکٹ کی منظوری دے دی، کمیٹی نے خودمختار سرکاری اداروں کو سرپلس منافع قومی خزانے میں جمع کرانے کا قانون منظور کر لیا۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ میں ترامیم پیش کیں۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ خود مختار اداروں کو سرپلس منافع قومی خزانے میں جمع کرانے کا پابند کیا جائے، خود مختار اداروں کو اضافی کیش اپنے پاس جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے اور آڈیٹر جنرل کو خودمختار اداروں کے آڈٹ کا اختیار دیا جائے۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ خود مختار ادارے سرپلس منافع نان ٹیکس کی مد میں قومی خزانے میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے، سرکاری اداروں کو پینشن یا پراویڈنٹ فنڈ سے سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے اور اگر سرمایہ کاری کر سکیں گے تو پینشن فنڈ میں پیسے جمع کروا سکیں گے۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ خود مختار اداروں کی گرانٹس کو بھی اداروں کی آمدن میں شامل کیا جائے، کمپنیز اور خودمختار اداروں کو پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ کا حصہ بنایا جائے، خود مختار اداروں کو سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ میں ٹرانزیشن پیریڈ کی شق کو ختم کیا جائے اور سیکشن 42 کو ایس او ای ایکٹ سے نکال کر پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ کا حصہ بنایا جائے۔ نادرا نے نادرا ٹیکنالوجیز کے نام سے کمپنی بنا لی ہے، نادرا ٹیکنالوجیز اپنی آمدن قومی خزانے میں جمع نہیں کر رہی۔
وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی کے پاس سب سے زیادہ پیسہ ہے اور وہ قومی خزانے میں جمع نہیں کرواتے۔
گاڑیوں کے خریداروں کے لیے بڑی خبر
وزارت تجارت حکام نے بتایا کہ ستمبر 2025 سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت کی تجویز ہے، پانچ سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دی جائے گی۔
حکام وزارت تجارت نے مزید بتایا کہ پرانی گاڑیوں کی درآمد پر اضافی ٹیکسز اور ڈیوٹیز لگائی جائیں گی۔ پہلے سال پرانی گاڑیوں پر 40 فیصد ٹیکسز اور ڈیوٹیز لگائی جائیں گی جبکہ پرانی گاڑیوں پر اگلے چار سال میں مرحلہ وار ٹیکسز ختم کیے جائیں گے۔
وزارت تجارت نے بتایا کہ چار سال میں پرانی گاڑیوں پر اضافی ٹیکسز ختم کر دیے جائیں گے، 2026 میں پانچ سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے گی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بیگیج اسکیم کے تحت بھی پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مقامی کار مینوفیکچررز کو طویل عرصے سے تحفظ دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ خود مختار اداروں کی اجازت دی جائے مختار اداروں کو پرانی گاڑیوں کی نے کہا کہ بتایا کہ درآمد کی کیا جائے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔