صنم سعید اور محب مرزا نے بیٹے کی ولادت کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اداکارہ صنم سعید اور شوہر محب مرزا نے بیٹے کی ولادت کا اعلان کر دیا۔
صنم، جنہوں نے سنہ 2023 میں اداکار محب مرزا سے اپنی شادی کا اعلان کیا تھا، نے یہ خبر اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کی۔
یہ بھی پڑھیں: صنم سعید نے 5 مختلف لہجوں میں بات کرکے سب کو حیران کردیا
ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش 18 مئی کو ہوئی تھی تاہم اس کا اعلان انہوں نے ایک ماہ بعد کیا ہے۔ بچے کا نام ولی حسن مرزا رکھا گیا ہے۔
اداکارہ نے اپنے ہاں بیٹے کی پیدائش کے ایک ماہ بعد بچے کی ولادت کا اعلان کرتے ہوئے بچہ و زچہ کی صحت یابی کے لیے دعائیں کرنے کی اپیل بھی کی۔
صنم سعید نے واضح نہیں کیا کہ ان کے ہاں بچے کی پیدائش کہاں ہوئی؟ تاہم ان کی پوسٹ پر شوبز شخصیات اور مداحوں نے تبصرے کرتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کی۔
مزید پڑھیے: فواد خان اور صنم سعید کی ویب سیریز ’برزخ‘ مینیا فیسٹول میں نمائش کے لیے منتخب
دلچسپ بات یہ ہے کہ صنم سعید نے 12 مئی کو اپنے حاملہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ جلد ماں بننے والی ہیں۔
دونوں کی یہ دوسری شادی ہے۔ محب مرزا کی پہلی شادی ماڈل آمنہ شیخ سے سنہ 2005 میں ہوئی تھی اور دونوں کے درمیان 2019 میں طلاق ہوگئی تھی، ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔
مزید پڑھیں: لاس اینجلس آگ نے پاکستانی فلم ’دی مارشل آرٹسٹ‘ کی ریلیز روک دی
صنم سعید کے ہاں شادی کی تصدیق کے ڈھائی سال بعد پہلے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
صنم سعید صنم سعید کے بیٹے کی ولادت صنم سعید کے ہاں ولادت محب مرزا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: صنم سعید کے بیٹے کی ولادت صنم سعید کے ہاں ولادت کی پیدائش کی ولادت کا اعلان بیٹے کی کے ہاں
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔