دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص کی دوسری شادی پر کتنے ڈالرز خرچ ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص اور ایمازون کے بانی جیف بیزوز اگلے ہفتے اپنی منگیتر لورین سانچز کے ساتھ دوسری شادی کرنے جارہے ہیں، جس کے لیے وہ ساڑھے چار ارب روپے سے زائد (160 لاکھ ڈالرز) خرچ کرنے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مکیش امبانی ایک بار پھر بھارت کے امیر ترین فرد بن گئے، کل مالیت کتنی ہوگئی؟
برطانوی روزنامے ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق یہ شادی جون کے آخری ہفتے میں اٹلی کے تاریخی شہر وینس میں ہوگی، جہاں جیف بیزوز اپنے ذاتی 50 کروڑ ڈالرز کی یاٹ پر پہنچیں گے۔
شادی پر متوقع اخراجات10 لاکھ ڈالرز پھولوں اور عمارات کی سجاوٹ پر
20 لاکھ ڈالرز تاریخی عمارات کے کرایے پر
10 لاکھ ڈالرز کھانے کے انتظامات پر
15 لاکھ ڈالرز دلہن کے لباس پر
20 لاکھ ڈالرز مہمانوں کے قیام پر
30 لاکھ ڈالرز شادی انتظامیہ کو ادا کیے جائیں گے
وینس کے عوام کا احتجاجشادی کی تقریبات Palazzo Pisani Moretta، ہوٹل Excelsior اور دیگر تاریخی عمارات میں ہونے کا امکان ہے، جس پر وینس کے رہائشی برہم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شادی وینس کی روح کو سیاحت کے نام پر فروخت کرنے کے مترادف ہے، یہاں بیزوز جیسے سرمایہ داروں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے ہاں 14ویں بچے کی پیدائش
مقامی افراد کے مطابق، شہر پہلے ہی رہائش کی قلت، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے، اور اس قسم کی تقریبات صرف سیاحتی کاروبار کو فروغ دیتی ہیں، عوامی فلاح کو نہیں۔
شادی میں کون کون شریک ہوگا؟شادی میں بل گیٹس، ایلون مسک، مارک زکربرگ اور ہالی وڈ کی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے، مہمانوں نے وینس کے سب سے مہنگے ہوٹل کمرے پہلے ہی بک کرلیے ہیں۔
پہلا نکاح اور مہنگی طلاقیاد رہے کہ جیف بیزوز نے 1993 میں میکنزی اسکاٹ سے شادی کی تھی، جو 25 سال بعد 2019 میں طلاق پر ختم ہوئی۔ اس طلاق میں بیزوز نے اپنی سابقہ اہلیہ کو 35 ارب ڈالرز ادا کیے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایمازون جیف بیزوز شادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمازون جیف بیزوز لاکھ ڈالرز جیف بیزوز
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔