data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)شاہ لطیف کے علاقے لانڈھی رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کے قریب نیشنل ہائی وے پر بس اور ٹینکر کے درمیان آگے نکلنے کی دوڑ کے دوران ٹریفک حادثے کے نتیجے میں بس میں سوار ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ایدھی ترجمان کے مطابق واٹر ٹینکر بس سے آگے نکلنے کے لیے عقب سے ہارن بجا رہا تھا اور بس کو پش بھی کر رہا تھا، اسی دوران تیز رفتار بس ڈرائیور سے بے قابو ہو کر فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں بس میں سوار افراد ادھر ادھر جا گرے جبکہ متعدد خواتین اور بچوں کے سر لوہے کی سیٹوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے۔ایدھی رضا کار ڈرائیور ساجد پٹھان اور عابد رشید نے بتایا کہ بس میں سوار افراد اورنگی ٹائون کے رہائشی اور ایک ہی خاندان کے افراد تھے جو پکنک منانے کلری جھیل جا رہے تھے، ابتدائی طور پر زخمیوں نے اسپتال جانے انکار کر دیا تھا تاہم پولیس اور ایدھی کے رضاکاروں کے سمجھانے پر مرہم پٹی کرانے کے لیے اسپتال جانے پر رضا مند ہوگئے۔مجموعی طور پر 15 سے زائد افراد زخمی ہوئے تاہم علاج و معالجے کے لیے 6 افراد جو زیادہ زخمی تھے وہ اسپتال لائے گئے، اسپتال لائے جانے والے زخمیوں کی شناخت 48 سالہ مختار احمد، 25 سالہ مہتشم حسین، 18 سالہ نوید حسین، 20 سالہ عظیم شاکر، 20 سالہ نقاش ، 26 سالہ گلشن، 30 سالہ فرحان ولد قادر حسین اس کا بہن 20 سالہ سحر اس کا چھوٹا بھائی 17 سالہ محمد ارمان اور ان کے والد 58 سالہ قادر حسین کے ناموں سے کی گئیں۔زخمی ہونے والی بیشتر خواتین نے بھی علاج و معالجے کے لیے اسپتال آنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ بزد تھیں کہ انہیں ان کے گھر پہنچا دیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی