بس حادثے میں پکنک پر جانے والے ایک ہی خاندان کے 15 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)شاہ لطیف کے علاقے لانڈھی رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کے قریب نیشنل ہائی وے پر بس اور ٹینکر کے درمیان آگے نکلنے کی دوڑ کے دوران ٹریفک حادثے کے نتیجے میں بس میں سوار ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ایدھی ترجمان کے مطابق واٹر ٹینکر بس سے آگے نکلنے کے لیے عقب سے ہارن بجا رہا تھا اور بس کو پش بھی کر رہا تھا، اسی دوران تیز رفتار بس ڈرائیور سے بے قابو ہو کر فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں بس میں سوار افراد ادھر ادھر جا گرے جبکہ متعدد خواتین اور بچوں کے سر لوہے کی سیٹوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے۔ایدھی رضا کار ڈرائیور ساجد پٹھان اور عابد رشید نے بتایا کہ بس میں سوار افراد اورنگی ٹائون کے رہائشی اور ایک ہی خاندان کے افراد تھے جو پکنک منانے کلری جھیل جا رہے تھے، ابتدائی طور پر زخمیوں نے اسپتال جانے انکار کر دیا تھا تاہم پولیس اور ایدھی کے رضاکاروں کے سمجھانے پر مرہم پٹی کرانے کے لیے اسپتال جانے پر رضا مند ہوگئے۔مجموعی طور پر 15 سے زائد افراد زخمی ہوئے تاہم علاج و معالجے کے لیے 6 افراد جو زیادہ زخمی تھے وہ اسپتال لائے گئے، اسپتال لائے جانے والے زخمیوں کی شناخت 48 سالہ مختار احمد، 25 سالہ مہتشم حسین، 18 سالہ نوید حسین، 20 سالہ عظیم شاکر، 20 سالہ نقاش ، 26 سالہ گلشن، 30 سالہ فرحان ولد قادر حسین اس کا بہن 20 سالہ سحر اس کا چھوٹا بھائی 17 سالہ محمد ارمان اور ان کے والد 58 سالہ قادر حسین کے ناموں سے کی گئیں۔زخمی ہونے والی بیشتر خواتین نے بھی علاج و معالجے کے لیے اسپتال آنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ بزد تھیں کہ انہیں ان کے گھر پہنچا دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔