Express News:
2026-07-24@01:42:17 GMT

میری انٹیلی جنس کمیونٹی غلط ہے؛ صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنی انٹیلی جنس کمیونٹی کے مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیو جرسی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق انٹیلی جینس کمیونٹی کی رپورٹ کو اس وقت مسترد کر دیا جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا وہ اپنی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس، ٹلسی گیبارڈ کی اس رائے سے متفق ہیں کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میری انٹیلی جنس کمیونٹی غلط ہے۔ٹرمپ کے اس بیان نے امریکی پالیسی اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان تضاد کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت شاید کریں، مگر ساتھ ہی واضح کیا کہ اسرائیل جنگ کے لحاظ سے بہتر پوزیشن میں ہے اور میرے خیال میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایران کی پوزیشن کمزور ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے یورپ کی صلاحیتوں پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اس تنازعے (اسرائیل-ایران) میں مدد نہیں کر پائے گا۔

ٹرمپ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی شدید تر ہوتی جا رہی ہے اور عالمی برادری جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انٹیلی جنس ایران کے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل