ایران اسرائیل جنگ مزید بڑھی تو کسی کے قابو میں نہیں رہے گی، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جینو( مانیٹرنگ ڈیسک )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایران اسرائیل کشیدگی پر اہم ہنگامی اجلاس شروع ہوگیا جس کا افتتاح سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فوی جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کیا۔ دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے ایرانی ہم منصب کے ساتھ 3 گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا‘ایران پر تمام فریقوں سے مذاکرات پرزور‘ایران جوہری پروگرام سمیت تمام معاملات پر بات چیت پرآمادہ ۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے کہا کہ ایران بارہا جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کروا چکا ہے۔ انھوں نے مزید کہا ایران میں ایٹمی تنصیبات اور عوامی مراکز پر حملے کیے گئے۔ عوامی مقامات اور طبی مراکز پر حملے عالمی قوانین کے خلاف ہیں۔ انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ ایران اسرائیل کشیدگی کو صرف اور صرف سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے یورپی ممالک اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج کے سلامتی کونسل اجلاس سے بھی امن کا واضح پیغام جانا چاہیے۔سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا کہ ایران اسرائیل کشیدگی کو بڑھاوا دیا گیا تو پھر یہ جنگ کسی کے قابو میں نہیں رہے گی۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ اسرائیل ایران کشیدگی میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو اب مزید بڑھنے نہیں دیا جاسکتا۔ فوری جنگ بندی وقت کی ضرورت ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رافیل گروسی نے کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں سے سنگین خطرات لاحق ہوئے، اگرچہ اب تک اس حوالے سے عوام پر منفی اثرات نہیں دیکھے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ایک ہفتے قبل ایران پر حملے شروع کیے تھے، اائی اے ای اے صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے، آئی اے ای اے جوہری اور ریڈولاجی تحفظ کا عالمی مرکز ہے، اور ہم کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔رافیل گروسی نے کہا کہ آئی اے ای اے کو دستیاب معلومات کی بنیاد پر ایران کی جوہری مراکز پر موجودہ صورتحال ہم نے سیکورٹی کونسل کو پیش کی تھی، مزید کہنا تھا کہ 13 جون کو مرکزی پلانٹ پر اسرائیل نے حملہ کیا تھا، جس میں بجلی کا نظام تباہ ہو گیا تھا، جس میں الیکٹریکل سب اسٹیشن، مرکزی بجلی فراہم کرنے والی عمارت، ایمرجنسی پاور سپلائی جنریٹرز شامل تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح دوسری سہولت، فیول انرچمنٹ پلانٹ، جو زمین سے اوپر اور زمین کے اندر تنصیبات پر مشتمل ہے، 13 جون کو زمین کے اوپری حصے پر موجود تنصیبات فنکشنل طور پر تباہ ہو گئی تھی، جبکہ زیر زمین تنصیبات کوئی بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔انہوں نے کہا کہ باہر موجود ریڈی ایشن کی صورتحال پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا، جس کا مطلب تھا کہ عوام پر کسی بھی قسم کے کوئی منفی اثرات نہیں ہوئے، تاہم تنصیبات کے احاطے میں ریڈیولاجیکل اور کیمیکل اثرات ممکن تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں اصفہان جوہری تنصیبات پر گزشتہ جمعہ کے حملے میں 4 عمارتوں کو نقصان پہنچا، جس میں مرکزی کیمیکل سہولت، یورینیم منتقل کرنے کا پلانٹ، تہران ری ایکٹر فیول مینوفیکچرنگ پلانٹ اور افزدرہ یورینیم میٹل پروسیسنگ سہولت شامل ہے، جو زیر تعمیر تھی، جبکہ تابکاری کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے جنوبی ایٹمی پلانٹ بوشہر پر اسرائیلی حملہ علاقائی تباہی کا باعث بن سکتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اب تک اس تنازع میں کسی قسم کی تابکاری کا سراغ نہیں ملا۔رافیل گروسی نے بتایا کہ خطے کے ممالک نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اپنے خدشات کا اظہار کرنے کے لیے مجھ سے براہ راست رابطہ کیا ہے، اور میں اسے بالکل اور مکمل طور پر واضح کر دینا چاہتا ہوں، بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملے کی صورت میں، براہ راست حملے کے نتیجے میں ریڈیو ایکٹیویٹی بہت زیادہ نکلے گی۔دریں اثنا، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے ایران-اسرائیل تنازع پر اقوام متحدہ کے سربراہ کے بیانات کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی امن کی اپیل کے حوالے سے پاکستان نے ایک بار پھر اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ سے اور آپ کی اس اپیل سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ امن کو موقع دیا جائے، اسی تناظر میں، آپ کی جنگ ختم کرنے اور مذاکرات کی طرف واپسی کی اپیل کی ہم مکمل حمایت کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اسرائیل کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، جو نہ صرف پورے خطے بلکہ اس سے آگے بھی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے ایرانی ہم منصب کے ساتھ 3 گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس ملاقات کے بعد مختصر بیانات دیے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آیا مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہوئی یا نہیں۔فرانسیسی وزیر خارجہ ڑاں نوئل بارو نے توقع ظاہر کی کہ ایران کو امریکا سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ کھلے دل سے بات چیت کرنا چاہیے تاکہ جنگی صورتحال کا سفارتی حل نکالا جا سکے۔انھوں نے مزید بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔جرمنی کے وزیر خارجہ یوان وادیفْل کے بقول اس بات زور دیا کہ جنگ کے حل کے لیے امریکا کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی نے بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ایران پر زور دیتا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ بات چیت جاری رکھے۔یورپی وزرائے خارجہ اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ مزید بات چیت کے لیے تیار ہیں اور امریکا کی شمولیت کو بھی ایک لازمی قدم سمجھتے ہیں۔جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ سے ہونے والے مذاکرات کو ایران میں سراہا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کے نے مزید کہا کہ ایران اسرائیل کہا کہ ایران کہنا تھا کہ نے کہا کہ ا کرتے ہوئے کرتے ہیں انھوں نے اے ای اے پر حملے کے ساتھ بات چیت بات پر کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔