ایران اسرائیل کوشکست دینے کی صلاحیت رکھتاہے ، ہتھیار نہیں ڈالے گا
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ : قاضی جاوید) ایران اسرائیل کوشکست دینے کی صلاحیت رکھتاہے ، ہتھیار نہیں ڈالے گا‘علی خامنہ ای نے ٹرمپ کی دھمکی کو ہوا میں اُڑا دیا،امریکا B52 طیارے استعمال نہیں کرے گا،اسرائیل امریکی حمایت کے بغیر حملہ نہیں کر سکتاتھا‘طویل پابندیوں کے باوجودتہران نے اپنے آپ کو مضبوط کیا‘جنگ پھیلی توپاکستان پر اثرات پڑیںگے۔ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ملیحہ لودھی ، سینیٹر مشاہد حسین سید،صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود اورصحافی نجم سیٹھی نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیاٹرمپ کی دھمکی پر ایران اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا؟‘‘ ملیحہ لودھی نے کہا کہ ایران ہتھیار ڈالنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہا ہے اور نہ ہی ایسا ہو گا‘ 2 دن سے امریکا بھی ایران پرB52 بمبار طیارے سے حملے کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہا ہے‘ ایران ایک پرانی تہذ یب کا حامل ملک ہے اس کی روایت یہ نہیں ہے دنیا کے کسی ملک سے دب جائے‘ ایران نے امریکا کی شرائط کو نامنظور کرکے طویل معاشی پابندی کو برداشت کیا ہے‘ ایران اسرائیل جنگ میں سعودی عرب یا کوئی اور ملک مداخلت کرنا نہیں چاہے گا، پہلی بار ایران اور اسرائیل کی برا ہ راست محاذ آرائی ہوئی ہے جس میں ایران اسرائیل پر بھاری نظر آرہا ہے‘ جنگ خطے میں پھیلی تو پاکستان پر بھی اثرات ہو ں گے‘ پاکستا ن سمیت مسلم ممالک کا متفقہ جواب آنا چاہیے ‘ ایران نے صرف فوجی ٹارگٹس پر حملے کیے شہر ی تنصیبات پر نہیں، ایران کا مقصد صرف اسرائیل کو خبر دار کرنا تھا‘نہیں لگتاکہ چین اور روس ایران کے خلاف مذمتی قرار داد کی حمایت کریں گے، اصل سفارتی کوششیں امریکا کی طرف سے ہوں گی کہ جنگ بڑھ نہ جائے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایران ہتھیار ڈالنے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہے اور نہ ہی وہ ہتھیار ڈالے گا‘ اس کی وجہ یہ ہے ایران نے جنگ کے دوران یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو مکمل طورپر شکست دے سکتا ہے‘ ایران نے پورے اسرائیل پر حملے کیا ہیں اور ابھی تک کسی بھی جگہ وہ کمزور نظر نہیں آرہا ہے‘ ایران نے ٹرمپ کی دھمکی کو ہوا میں اُڑا دیا ہے اور اب اسرائیل مذاکرات کے لیے تیار نظر آرہا ہے‘ اسرائیل امریکا کی حمایت کے بغیر ایران پر حملہ نہیں کر سکتاتھا، پاکستان خطے میں جنگ کے خلاف ہو گا‘ جنگ جاری ہے اور پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا‘ خطے میں صدام حسین اور کرنل قذافی نے بدترین شکست کے بعد ہی ہتھیار ڈالے تھے تو کیا ایران امریکا یا اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا؟ ایسا ہر گز نہیں ہو گا اور اس طرح امریکا کے لوگ سوچ بھی نہیں رہے ‘ صدر ٹرمپ خود بھی ایران اسرائیل جنگ میں شریک نہیں ہو نا چاہتے لیکن اسرائیل کی یہ خواہش ہے کہ امریکا اس جنگ میں شامل ہو ۔امریکا کی خواہش ہے کہ ایران اسرائیل جنگ اب ختم ہو جائے گا لیکن وہ اسرائیل کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا‘ ایک دو دن سے تو یہ خبریں پوری دنیا میں چل رہی ہیں کہ اسرائیل امریکا سے مذاکرات کی باتیں کر رہا ہے اور ایسا ہی ہو گا‘ امریکا B52 طیارے استعمال نہیں کرے گا‘ اس سے امریکا کو اسلامی ممالک میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ ایران ایران اسرائیل اسرائیل کو امریکا کی ہے اور
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔