وفاقی حکومت کا 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت)وفاقی حکومت نے5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزارت غذائی تحفظ کے اعلامیے کے مطابق ڈی ریگولیشن پالیسی کے تحت زرعی اجناس کی درآمد، برآمد اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مارکیٹ فورسز کے مطابق ہوتا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سیزن میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہونے کی وجہ سے برآمد کی گئی تھی، موجودہ صورتحال میں تاثر غلط ہے کہ عوامی ضروریات کے مطابق چینی کی وافرمقدارموجود نہیں۔وزارت غذائی تحفظ کے مطابق چینی درآمد کا فیصلہ قیمتوں میں استحکام، عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا، اضافی اسٹاک کے ہونے سے قیمتوں میں توازن برقرار رہے گا۔وزارت غذائی تحفظ نے بتایاکہ تمام زرعی اجناس کی خرید و فروخت کا دارومدار سیزن پر منحصر ہے، زرعی اجناس کی خرید وفروخت کو مالی سال سے منسلک کرنا غلط ہے اور حالیہ پالیسی کے تحت تمام زرعی اجناس کو ڈی ریگولیٹ کیا جا چکا ہے، ماضی کی طرح چینی کی برآمد پر کسی بھی قسم کی سبسڈی نہیں دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔