پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن نوبیل پرائز کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس بحث میں خود امریکی صدر بھی شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ‘ پر پوسٹ کیے گئے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’مجھے جمہوری جمہوریہ کانگو اور جمہوریہ روانڈا کے درمیان معاہدہ کروانے پر امن کا نوبیل انعام نہیں ملے گا، مجھے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوانے پر بھی امن کا نوبیل انعام نہیں ملے گا‘۔

انہوں نے لکھا کہ ’میں یہ بتاتے ہوئے بہت خوش ہوں کہ میں نے، وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ مل کر، جمہوری جمہوریہ کانگو اور روانڈا کے درمیان ایک شاندار معاہدہ طے کرایا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے تنازع کے خاتمے کے لیے ہے جو کئی دہائیوں سے جاری تھا، اور جس میں بے پناہ خونریزی اور ہلاکتیں ہوئیں  شاید دنیا کے اکثر جنگوں سے بھی زیادہ‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’روانڈا اور کانگو کے نمائندے پیر کو واشنگٹن آ رہے ہیں تاکہ معاہدے پر دستخط کریں۔ یہ افریقہ کے لیے ایک عظیم دن ہے، اور صاف الفاظ میں، دنیا کے لیے ایک زبردست دن ہے‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’مجھے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوانے پر بھی نوبیل امن انعام نہیں ملے گا، مجھے سربیا اور کوسوو کے درمیان جنگ روکنے پر بھی نوبیل انعام نہیں ملے گا، مجھے مصر اور ایتھوپیا کے درمیان امن قائم رکھنے پر بھی نوبیل انعام نہیں ملے گا۔

انہوں نے قوسین میں وضاحت بھی کہ یہ وہی ایتھوپین ڈیم ہے جس کی مالی معاونت امریکا نے کی، اور جو دریائے نیل کے پانی کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ مجھے مشرقِ وسطیٰ میں ابراہم معاہدے کرانے پر بھی نوبیل انعام نہیں ملے گا، حالانکہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مزید ممالک اس میں شامل ہوں گے، اور مشرقِ وسطیٰ کو پہلی بار ’صدیوں‘ میں ایک متحد پلیٹ فارم پر لائیں گے‘۔

انہوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے درج کیا کہ ’ نہیں، مجھے نوبیل امن انعام نہیں ملے گا، چاہے میں کچھ بھی کر لوں، چاہے وہ روس/یوکرین ہو یا اسرائیل/ایران، نتیجہ کچھ بھی ہو، لوگ جانتے ہیں، اور میرے لیے یہی سب سے اہم بات ہے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نوبیل انعام نہیں ملے گا پر بھی نوبیل کے درمیان انہوں نے لکھا کہ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل