حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کا اعلیٰ ڈرون کمانڈر کو شہید کرنے کا اسرائیلی دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اسرائیل نے ایک فضائی حملے میں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جس سے پہلے سے کشیدہ خطے میں مزید تناؤ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا سجیل 2 میزائل: اسرائیل میں تباہی مچانے والے جدید ترین ہتھیار کی خاص بات کیا؟
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، آمین پورجودکی (جسے آمین فار جودخی بھی لکھا جاتا ہے) جو پاسداران کے ایرو اسپیس فورس میں دوسری ڈرون یونٹ کی قیادت کر رہے تھے، اسرائیلی فضائیہ کے نشانہ بنائے گئے حملے میں ہلاک ہو گئے۔
یہ حملہ ہفتے کے روز ہوا تھا، لیکن حملے کی صحیح جگہ یا دیگر تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
اسرائیلی حکام نے پورجودکی کو ایران کے ڈرون پروگرام میں ایک اہم شخصیت قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ایسی ڈرون سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے تھے جو اسرائیلی مفادات کے لیے خطرہ تھیں۔
ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ آئی ڈی ایف نے آمین پورجودکی کو ختم کرنے کی تصدیق کی ہے، جو انقلابی گارڈز کے ایرو اسپیس فورس میں دوسری ڈرون یونٹ کے کمانڈر تھے۔
یہ بھی پڑھیں:18ویں لہر: ایران کے ڈرونز اور میزائلوں کا اسرائیل پر نیا اور بھرپور حملہ، تل ابیب کے مرکز میں آگ بھڑک اٹھی
خطے میں ڈرون حملوں کو مربوط کرنے اور ایرانی پراکسیز کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں ان کا کردار انہیں ایک جائز ہدف بناتا تھا۔”
ایرانی حکام کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، اور اس رپورٹ کی تیاری تک تہران نے پورجودکی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اسرائیل کا اصفہان میں نیوکلیئر سائٹ پر حملہ
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نےاصفہان میں نیوکلیئر سائٹ کونشانہ بنایا تاہم اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کسی خطرناک مواد کاکوئی اخراج نہیں ہورہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔