وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی مقتولہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے گھر آمد، لواحقین سے تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسکپ)وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے معروف ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے گھر جا کر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور غم کی اس گھڑی میں بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ:
> “ثناء یوسف کے قتل پر پوری قوم رنجیدہ ہے، یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے جو ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس افسوسناک واقعے کو ایک ٹیسٹ کیس بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے دل دہلا دینے والے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔
عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے جلد ایک قانونی ٹیم تشکیل دی جائے گی تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں۔
انہوں نے زور دیا کہ:
> “ملزم کو سخت ترین سزا دی جانی چاہئے تاکہ ایک واضح پیغام جائے کہ ایسے جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔”
عطاء اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ:
> “سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا ذمہ داری سے استعمال ہونا چاہئے۔ اس کے منفی استعمال کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔”
انہوں نے تجویز پیش کی کہ بچیوں کے تحفظ کے لیے ایک قومی سطح کا فورم قائم ہونا چاہئے تاکہ انہیں ایک محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کیا جا سکے۔آخر میں انہوں نے کہا:”ہمیں اپنی بچیوں کو ہر ممکن تحفظ دینا ہے اور ان کے لیے ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں وہ بے خوف زندگی گزار سکیں۔”
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عطاء اللہ تارڑ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔