سلامتی کونسل کے اجلاس میں متعدد ممالک کے مندوبین نے اسرائیل اور ایران کے درمیان فائر بندی کی درخواست کی ہے، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 21 June, 2025 سب نیوز

اقوام متحدہ : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی درخواست پر اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعات کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کا ایک بار پھر  انعقاد کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مختلف فریقوں سے ” امن کو موقع دینے ” کی اپیل کی اور متعدد ممالک کے مندوبین نے فوری طور پر فائر بندی اور ایران کے ایٹمی مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی اپیل کی۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب عامر سعید اروانی نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جوہری توانائی ایجنسی سے جلد ہی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اگر امریکہ حملوں میں شامل ہو تو ایران “جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کر  سکتا ہے۔

متحدہ میں تعینات چینی مندوب فو چھونگ نے سلامتی کونسل کی مشرق وسطی کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری کوخبردار دیا کہ پرامن مذاکرات کو عمل میں لایا جائے اور تنازعات کو حل کیا جائے۔ سب سے پہلے فوری جنگ بندی کی جائے ، دوسرا ، عام شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے، تیسرا، مذاکراتی عمل بحال کیا جائے ۔چوتھا، عالمی برادری کو امن قائم کرنے کی مشترکہ  کوشش کرنی چاہئے۔مقامی وقت کے مطابق 20 تاریخ کو ترکیہ کے شہر استنبول میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

اردن کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ  صفادی نے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملے سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی حملے پر عرب ممالک کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے صفادی نے کہا کہ پہلے اس حملے کو روکنا ہوگا اور پھر ایرانی جوہری مسئلے کے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔عراق کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ فواد حسین نے اجلاس میں کہا کہ عرب دنیا کو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے اور اسے ایک پختہ اجتماعی موقف اپنانا ہوگا۔ مزید برآں،فواد حسین نے  ملکی خود مختاری اور عراقی فضائی حدود کی غیر ملکی خلاف ورزیوں  کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسنگاپورچین کے ساتھ مزید تعاون کا خواہاں ہے، وزیر اعظم سنگاپور ایرانی ایٹمی پلانٹ پر حملے کی صورت میں جوہری تباہی کا سامنا ہوگا، آئی اے ای اے کا انتباہ آئینی بنچ کی مدت میں توسیع پر جسٹس منصور علی شاہ کے تحفظات، جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ، قومی قیادت کا خراجِ عقیدت ایران کے جوہری پروگرام کو دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے، اسرائیل کا دعویٰ پاکستان کا یو این سلامتی کونسل سے اسرائیلی جارحیت رکوانے کا مطالبہ دیربالا اور کوہستان میں شدید بارش، سیلابی صورتحال سے تباہی، بچہ جاں بحق TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اور ایران کے ممالک کے

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت