تنخواہ دار طبقے اور نان فائلرز کیلئے ٹیکس ریلیف کی تجاویز منظور
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
وقاص عظیم: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں تنخواہ دار طبقے اور نان فائلرز کو ریلیف دینے کی متعدد تجاویز کی منظوری دے دی گئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سیدنوید قمر کی زیر صدارت ہوا ، فنانس میں انکم ٹیکس تجاویز کی شق وار منظوری پر غورکیاگیا،تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس میں ردو بدل کی تجویزبھی منظورکی گئی۔
اجلاس میں تنخواہ دار طبقے اور نان فائلرز کو ریلیف دینے کی متعدد تجاویز منظور کرلی گئیں،سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ تنخواہ پرٹیکس 2.
بجلی صارفین کے لئے بڑی خوشخبری
اجلاس میں کارپوریٹ سیکٹر پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کی تجویز بھی منظور کی گئی جبکہ ساکرا اکاؤنٹس میں 6 ماہ سے کم مدت کے لیے ڈیپازٹ کرانے پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز منظورکی گئی۔
حکام اسٹیٹ بینک کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی اکاؤنٹس میں ایک سال سے کم مدت کے لیے ڈیپازٹ پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے،غیر ملکی سرمایہ کار اگر ایک سال تک ڈیپازٹ کریں گے تو ٹیکس چھوٹ ملے گی کیونکہ وہ شارٹ ٹرم کے لیے ڈیپازٹ کراتے ہیں تو حکومت کو اس کا فائدہ نہیں ہوتا،اس وقت مارکیٹ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اتنا پیسہ موجود نہیں ہے۔
کسان بورڈپاکستان کا"کسان بچاؤ،زراعت بچاؤ‘‘تحریک کا اعلان
اجلاس میں کیش آن ڈیلیوری خریداری پر 2 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لگانے،ای کامرس پر ٹیکس لگانے اورآمدن سے زیادہ بینکاری لین دین کرنے والے افراد کا ڈیٹا بینکوں سے لینے کی تجویزبھی منظورکرلی گئی۔
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق کمپیوٹرائزڈ الگورتھم کے ذریعے ایک حد سے زیادہ ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا بینک کو فراہم کیا جائے گا،کرنٹ اکاؤنٹ میں ہائی ٹرانزیکشنز کرنے والوں کا ریڈ فلیگ جاری کیا جائے گا۔
میگا کرپشن سکینڈل میں نیب لاہور کی رواں سال کی بڑی ریکوری
اجلاس میں کاروباری حدود میں ایف بی آر عملے کی تعیناتی کی تجویز منظوراورآن لائن مارکیٹ پر غیر رجسٹرڈ افراد کو فروخت پر جرمانے کی تجویز مستردکردی گئی،آن لائن مارکیٹ پر سالانہ 50 لاکھ روپے کی فروخت پر ٹیکس چھوٹ ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: تنخواہ دار طبقے کی تجویز منظور اجلاس میں اور نان
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔