اسرائیلی وزیر دفاع کا ایران کی قدس فورس کے سربراہ کو شہید کرنے کا دعویٰ، اصفہان میں نیو کلیئر سائٹ پر بھی حملہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اسرائیلی وزیر دفاع کا ایران کی قدس فورس کے سربراہ کو شہید کرنے کا دعویٰ، اصفہان میں نیو کلیئر سائٹ پر بھی حملہ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 June, 2025 سب نیوز
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے اصفہان میں نیوکلیئر سائٹ کونشانہ بنایا ہے، تاہم اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کسی خطرناک مواد کا کوئی اخراج نہیں ہورہا۔
اصفہان کے نائب گورنر نے صوبے پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی ہیں۔ صوبائی اہلکار کا کہنا ہے کہ اصفہان پر اسرائیلی حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق اہلکار نے بتایا کہ لنجان، مبارکہ، شہریزہ اور اصفہان کے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اصفہان میں جوہری مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم اہلکار کے مطابق ’’خطرناک مواد کا کوئی اخراج نہیں ہوا‘‘۔
تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملوں میں قدس فورس کے سربراہ سعید یزد مارے گئے ہیں۔
اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے ایران میں ایک اپارٹمنٹ پر حملہ کیا جس میں قدس فورس کے سربراہ مارے گئے۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے قدس فورس کے سربراہ کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔
دوسری جانب یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ جوہری مواد کی تباہی کو روکنے کےلیے اسے منتقل کیا گیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اسرائیل کے حملوں کو ختم کرنے اور سفارت کاری کی طرف واپس آنے کےلیے مذاکرات کے نقطہ نظر کے ایک حصے کے طور پر ’’چھپے ہوئے ایرانی جوہری مواد کی طویل اور چیلنجنگ تلاش‘‘ کا منظر پیش کررہا ہے۔
امریکا میں قائم دفاعی تھنک ٹینکس، انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار (ISW) اور کریٹیکل تھریٹس پروجیکٹ (CTP) نے تنازعے کے اپنے تازہ ترین مشترکہ جائزے میں کہا ہے کہ IRGC کے ایک سینئر کمانڈر نے کہا ہے کہ جوہری مواد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا تاکہ اس کی تباہی کو روکا جاسکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئینی بنچ کی مدت میں توسیع پر جسٹس منصور علی شاہ کے تحفظات، جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا ایران کے جوہری پروگرام کو دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے، اسرائیل کا دعویٰ بھارت سے جنگ بندی: پاکستان کی ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دینے کی سفارش غزہ: اسرائیلی فوج کی رہائشی عمارتوں پر بمباری، 31 فلسطینی شہید ایران کی تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر میزائلز کی برسات برطانیہ نے ایران سے سفارتی عملہ واپس بلالیا ، سوئٹزرلینڈ کا تہران میں سفارتخانہ بند کرنیکا اعلان ایران کا اسرائیل پرتازہ جوابی حملہ، فوجی اڈوں،ایٹمی ری ایکٹرکو نشانہ بنانے کا دعویٰCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قدس فورس کے سربراہ اصفہان میں کا دعوی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔