ایران اسرائیل تنازع عالمی تباہی کے دہانے پر ہے، سیکریٹری اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل ایران جنگ دوسرے ہفتے میں داخل، یورپی ممالک اور تہران کے درمیان سفارتی رابطے جاری
سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بحران کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدام کرے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات پر کسی کا قابو نہیں رہے گا۔ گوتریس نے یاد دلایا کہ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنا رہا، اس لیے سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔
’اسرائیل ایران سیز فائر کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا جائے‘، پاکستانعلاوہ ازیں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کی سخت مذمت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران، اسرائیل جنگ میں پاکستان کا کیا کردار ہونا چاہیے؟
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ سیز فائر کے لیے سلامتی کونسل کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ سفارتی راستہ اختیار کیا جائے اور دونوں فریق فوری مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ صورت حال مکمل قابو سے باہر نہ ہو جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس ایران پاکستان سیکریٹری جنرل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس ایران پاکستان سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔