data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اگر آپ بھی فون چارج کرنے کے بعد یہ سوچتے ہیں کہ پہلے چارجر کو فون سے نکالیں یا ساکٹ سے، تو جان لیں کہ یہ چھوٹا سا فیصلہ آپ کے موبائل، چارجر اور یہاں تک کہ آپ کے گھر کی حفاظت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ فون کو چارجنگ سے ہٹانے سے پہلے بہتر یہی ہے کہ پہلے چارجر کو ساکٹ یعنی پاور سورس سے ان پلگ کریں۔ خاص طور پر اگر آپ کے ہاتھ گیلے ہوں، تو براہ راست فون سے چارجر نکالنے سے کرنٹ لگنے کا بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے سب سے محفوظ طریقہ یہی ہے کہ پہلے پاور سورس سے چارجر نکالا جائے۔

بیٹری لائف کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین چند آسان لیکن مؤثر باتوں پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں:

فون کو ہر بار 100 فیصد چارج کرنا اور 0 پر لے آنا بیٹری کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ لیتھیم آئن بیٹریاں اگر 20 سے 80 فیصد کے درمیان چارج رہیں تو بہتر پرفارم کرتی ہیں اور زیادہ دیر چلتی ہیں۔

اصل یا کمپنی سے منظور شدہ چارجر استعمال کریں۔ سستے چارجر وقتی طور پر فائدہ مند لگ سکتے ہیں مگر یہ بیٹری کو نقصان پہنچاتے ہیں، گرمی پیدا کرتے ہیں اور فون کو جلد خراب کر سکتے ہیں۔

رات بھر فون چارج پر لگا کر سونا یا دیر تک چارجنگ پر چھوڑ دینا بیٹری کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ زیادہ دیر چارجنگ سے بیٹری گرم ہوتی ہے، اور گرمی بیٹری کی کارکردگی اور عمر کو کم کرتی ہے۔ سورج کی روشنی میں یا چارجنگ کے دوران فون کا استعمال بھی بیٹری کو گرم کر دیتا ہے، جس سے اس کی لائف کم ہو جاتی ہے۔

فون کے لوکیشن، بلیوٹوتھ اور وائی فائی جیسے فیچرز اگر استعمال میں نہ ہوں تو انہیں بند رکھنا بہتر ہے، کیونکہ یہ بیٹری کو مسلسل استعمال کرتے رہتے ہیں۔ بیٹری سیور موڈ آن رکھنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ فون چارج کرنے کے بعد بھی چارجر کو وال ساکٹ میں لگا رہنے دیتے ہیں۔ لیکن یہ عادت آپ کو کئی مسائل سے دوچار کر سکتی ہے، جیسے کہ اضافی بجلی کا خرچ، چارجر کا گرم ہونا، یا حتیٰ کہ شارٹ سرکٹ کا خدشہ۔ اس لیے چارجنگ مکمل ہونے پر صرف فون کو ہی نہیں، بلکہ چارجر کو بھی ساکٹ سے نکالنا ضروری ہے۔

یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اپنائی جائیں تو نہ صرف بیٹری لائف بہتر ہوتی ہے بلکہ فون اور گھر کی حفاظت بھی یقینی بنتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چارجر کو سکتا ہے فون کو

پڑھیں:

موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے محفوظ استعمال کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی رجسٹرڈ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قابلِ سزا جرم ہے اور اس کے سنگین قانونی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے تو متعلقہ صارف کو بھی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شہری اپنی سم کسی دوسرے فرد کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں۔

اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر یہ تصدیق کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں۔ اس مقصد کے لیے cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے) 668 پر ایس ایم ایس کر کے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

اگر کسی نامعلوم یا غیر ضروری سم کی نشاندہی ہو تو اسے فوری طور پر بلاک کرایا جائے۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار