Express News:
2026-06-03@06:40:39 GMT

پراکسی وار

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

’’پوری دنیا کے حالات خراب ہیں، پراکسیز چلا کر، پاکستان سے لے کر سعودیہ، شام، عراق، افغانستان، صومالیہ، لبنان اور بحرین تک کون دہشت گردی کروا رہا ہے؟‘‘

یہ اس کا کہنا تھا جو پاکستان سے دور سات سمندر پار رہتا ہے، اس سے پہلے بھی پراکسی وار کے بارے میں وہ عام سا، سیدھا سادہ کام کرنے والا بندہ اسی طرح کی باتیں کرتا تھا۔ فلسطین کے حوالے سے بھی اس کی رائے اسی طرح کی تھی۔ پاکستان سے باہر لوگ سیاست اور عالمی سیاست کے حوالے سے جو باتیں کرتے ہیں وہ پاکستان میں رہنے والے لوگوں کے مقابلے میں مختلف ہوتی ہیں۔

ہم پاکستانی فطرتاً جذباتی اور جوشیلے لوگ ہیں، ہم دنیا والوں کے ان ہتھکنڈوں سے باخبر تو ہیں پر مانتے نہیں یا ماننا نہیں چاہتے، ہماری نظر میں جو بھی اسلامی ممالک کے خلاف کچھ کر رہا ہے وہ ہمارا بھی دشمن ہے۔ ہم اس کا ساتھ دینے کے لیے آگے بڑھ کر آتے ہیں، پر یہ بھی ایک بڑی مسلمہ حقیقت ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے چھوٹی طاقتوں پر براہ راست سختی کر کے، وار کرکے اپنا ہدف حاصل نہیں کرتیں بلکہ وہ اپنے ساتھ لگا کر رکھنے والی غنڈہ قسم کی ریاستوں کو اس قسم کے کاموں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اب چاہے اس میں دہشت گردی کا عنصر ہو یا مذہبی انتہا پسندی۔

 آپ حالیہ چند بڑے دہشت گردی یا جنگی حملوں کی گہرائی کو دیکھیں تو آپ کو اس میں پراکسی وار کی تحریک نظر آئے گی۔ بڑی ریاستیں ان غنڈہ ٹائپ کی ریاستوں کو شکر بھر بھر کرکھلاتے ہیں جس سے انھیں طاقت کا ایسا نشہ چڑھتا ہے کہ وہ اپنے آقاؤں کو ہی سب کچھ سمجھ کر ان کے احکامات پر عمل کرنے چڑھ دوڑتے ہیں۔ اس میں ہر طرح کی مراعاتی اور سیاسی مدد شامل ہے۔ ان کی اس طرح کی پراکسی وار میں مظلوم عوام کا بے انتہا نقصان ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔

پراکسی کا مطلب ہے سادہ الفاظ میں کہ کسی دوسرے کے ذریعے اپنا کام کروانا، لہٰذا پراکسی وار کا مطلب ہوا کہ اپنی جنگ دوسروں کے ذریعے لڑنا، اس میں لڑنے والا اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر اپنے آقا کا حکم اوکے کرتا ہے، اب اس میں اسے ہار ہوتی ہے یا جیت، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس جنگ میں دو ریاستیں نقصان اٹھاتی ہیں لیکن تیسری چھپی ہوئی طاقت یا ریاست محفوظ رہ کر اپنا مقصد حاصل کرلیتی ہے۔

آج کل پراکسی وار کے ماخذ کو جاننا یا پہچاننا مشکل نہیں رہا ہے، سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر کوئی اپنی رائے، تبصرے اور متعلقہ وڈیوز شیئر کر کے اپنی جانب سے تو اپنی عقل مندی کا حق ادا کر کے داد وصول کر ہی رہا ہے، وہیں بہت سے خاموش بڑے سرکاروں کو سوچنے کے نئے انداز اور خیال فراہم کر رہا ہے۔

بہرحال دنیا میں ہونے والی آفات جن کا تعلق قدرت سے ہے، ہم اس پر واویلا کرتے ہیں لیکن انسانی ذہنوں کی سوچ سے ترتیب دی گئی آفات پر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ہیں کہ کسی میں اتنی ہمت ہی نہیں کہ وہ براہ راست اسے روک دے۔ یہ نہ روکنے والا عمل کیسا ہے، کیا یہ بھی کسی پراکسی کا حصہ ہے اور ساتھ ساتھ چلنے والی قدرتی آفات، کیا ہمارے لیے الارم نہیں بجا رہیں کہ انسان زمین پر کس طرح فساد پھیلا رہا ہے، رک جا، باز آ جا، ہر انسان کی سوچ بس یہیں آ کر رک جاتی ہے۔

یہ پراکسی وار پاکستان ایک طویل عرصے سے برداشت کرتا آ رہا ہے جسے ہم افغانستان کی بربادی کے نام سے بھی پہچان سکتے ہیں، روس اور امریکا کے درمیان آمنے سامنے کی جنگ کے لیے میدان افغانستان کا چنا گیا تھا جس پر ایک عرصے سے روس کی نظریں تھیں،گرم پانیوں تک پہنچنے کی رسائی کی دوڑ نے انسانی اذیتوں کا ایک عہد لکھ ڈالا جو اس کے بعد سے آج تک رکا نہیں بلکہ کسی نہ کسی حوالے سے چل ہی رہا ہے۔

گزشتہ صدی سے جاری اس پراکسی وار کے اصل ہاتھ کون تھے، سب جانتے ہیں، پر چند ذہنوں کی زہریلی سوچ اور سیاست نے دنیا میں جو افراتفری اور ہنگامے اور قتل و غارت گری کی، نسلوں نے دکھ برداشت کیے، پاکستان کی سرزمین پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے، اس کا ذمے دار کون ہے؟

حالیہ فلسطین کے حالات کے بارے میں پراکسی وار بظاہر جچتا نہیں کیونکہ یہ تنازعہ آج کا نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے چل رہا ہے، بہرحال انسانی المیہ اس قدر بڑھا کہ دنیا دہل کر رہ گئی لیکن قلیل فوج والے اسرائیل پرکوئی اثر نہیں پڑا، اس کی پیٹھ تھپتھپائی گئی کیوں کہ قیمتی انبیائے کرام کی اس سرزمین کا مسئلہ عیسائی، یہود اور مسلمانوں کے درمیان جس مذہبی جذباتی نوعیت سے ابھرا تھا، بظاہر اسے پراکسی کا نام دینا درست نہیں لیکن قیامت کے آثار سمجھ آ رہے ہیں۔ یہود و نصاریٰ سے دوستی کا نتیجہ واضح ہے۔

پہلی جنگ عظیم طاقت کی خرمستی کی جنگ تھی، یہ کسی پراکسی کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ کھل کر آسٹریا، ہنگری، جرمنی، برطانیہ، روس، سربیا، فرانس نے لڑی، دوسری جنگ عظیم بھی ایسی ہی سرکش طاقت کی خام خیالی تھی۔ اس نے دنیا کو ایک نئے زاویے پر مرکوزکیا جس کے اثرات آج کی دنیا میں نظر آ رہے ہیں۔

ماضی کی بڑی جنگوں نے بڑی طاقتوں کو سکھایا کہ سامنے رہ کر وار کرنے اور سہنے سے بہتر ہے کہ پیچھے رہ کر چھوٹے چھوٹے پتوں سے کام چلایا جائے اور ایسا ہو رہا ہے۔ یہ کب تک چلتا رہے گا۔ کیا یہ پراکسی وارز ایک ملغوبہ سا بن کر کسی بڑے خطرے کا سگنل نہیں بجا رہا۔

یوکرین اور روس، اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی ایک جنگی صورت حال دنیا میں مختلف مقامات پر سلگا کر کسی خاص جانب اشارہ کیا جاتا رہا ہو یا نہیں پر ساری وہ نشانیاں واضح ہوتی جا رہی ہیں جو انسان کو بڑی تباہی کی جانب دھکیل رہی ہیں، جو قرآن مجید میں تحریر ہے۔

آزمائش اور سزا کے درمیان کیا رشتہ ہے، گہرائی میں جائیں تو دل دہل جاتا ہے۔ انسانی طاقت کا نشہ کس قدر عظیم ہو، قدرت کے فیصلے سے سرتابی نہیں کر سکتا۔ ساری دنیا اس اعلیٰ مرتبت ہستی کو جانتی ہے، مانتی ہے لیکن اس تک پہنچنے کے طریقے الگ الگ ہیں، سب اپنے تئیں اپنے آپ کو بالکل درست سمجھتے ہیں اور اسی اعلیٰ مرتبت کے احکامات سے منحرف ہو کر دنیا میں فساد ڈالنے والوں میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پراکسی وار پراکسی کا کے درمیان دنیا میں رہا ہے طرح کی کے لیے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا