Express News:
2026-07-24@07:57:52 GMT

پراکسی وار

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

’’پوری دنیا کے حالات خراب ہیں، پراکسیز چلا کر، پاکستان سے لے کر سعودیہ، شام، عراق، افغانستان، صومالیہ، لبنان اور بحرین تک کون دہشت گردی کروا رہا ہے؟‘‘

یہ اس کا کہنا تھا جو پاکستان سے دور سات سمندر پار رہتا ہے، اس سے پہلے بھی پراکسی وار کے بارے میں وہ عام سا، سیدھا سادہ کام کرنے والا بندہ اسی طرح کی باتیں کرتا تھا۔ فلسطین کے حوالے سے بھی اس کی رائے اسی طرح کی تھی۔ پاکستان سے باہر لوگ سیاست اور عالمی سیاست کے حوالے سے جو باتیں کرتے ہیں وہ پاکستان میں رہنے والے لوگوں کے مقابلے میں مختلف ہوتی ہیں۔

ہم پاکستانی فطرتاً جذباتی اور جوشیلے لوگ ہیں، ہم دنیا والوں کے ان ہتھکنڈوں سے باخبر تو ہیں پر مانتے نہیں یا ماننا نہیں چاہتے، ہماری نظر میں جو بھی اسلامی ممالک کے خلاف کچھ کر رہا ہے وہ ہمارا بھی دشمن ہے۔ ہم اس کا ساتھ دینے کے لیے آگے بڑھ کر آتے ہیں، پر یہ بھی ایک بڑی مسلمہ حقیقت ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے چھوٹی طاقتوں پر براہ راست سختی کر کے، وار کرکے اپنا ہدف حاصل نہیں کرتیں بلکہ وہ اپنے ساتھ لگا کر رکھنے والی غنڈہ قسم کی ریاستوں کو اس قسم کے کاموں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اب چاہے اس میں دہشت گردی کا عنصر ہو یا مذہبی انتہا پسندی۔

 آپ حالیہ چند بڑے دہشت گردی یا جنگی حملوں کی گہرائی کو دیکھیں تو آپ کو اس میں پراکسی وار کی تحریک نظر آئے گی۔ بڑی ریاستیں ان غنڈہ ٹائپ کی ریاستوں کو شکر بھر بھر کرکھلاتے ہیں جس سے انھیں طاقت کا ایسا نشہ چڑھتا ہے کہ وہ اپنے آقاؤں کو ہی سب کچھ سمجھ کر ان کے احکامات پر عمل کرنے چڑھ دوڑتے ہیں۔ اس میں ہر طرح کی مراعاتی اور سیاسی مدد شامل ہے۔ ان کی اس طرح کی پراکسی وار میں مظلوم عوام کا بے انتہا نقصان ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔

پراکسی کا مطلب ہے سادہ الفاظ میں کہ کسی دوسرے کے ذریعے اپنا کام کروانا، لہٰذا پراکسی وار کا مطلب ہوا کہ اپنی جنگ دوسروں کے ذریعے لڑنا، اس میں لڑنے والا اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر اپنے آقا کا حکم اوکے کرتا ہے، اب اس میں اسے ہار ہوتی ہے یا جیت، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس جنگ میں دو ریاستیں نقصان اٹھاتی ہیں لیکن تیسری چھپی ہوئی طاقت یا ریاست محفوظ رہ کر اپنا مقصد حاصل کرلیتی ہے۔

آج کل پراکسی وار کے ماخذ کو جاننا یا پہچاننا مشکل نہیں رہا ہے، سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر کوئی اپنی رائے، تبصرے اور متعلقہ وڈیوز شیئر کر کے اپنی جانب سے تو اپنی عقل مندی کا حق ادا کر کے داد وصول کر ہی رہا ہے، وہیں بہت سے خاموش بڑے سرکاروں کو سوچنے کے نئے انداز اور خیال فراہم کر رہا ہے۔

بہرحال دنیا میں ہونے والی آفات جن کا تعلق قدرت سے ہے، ہم اس پر واویلا کرتے ہیں لیکن انسانی ذہنوں کی سوچ سے ترتیب دی گئی آفات پر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ہیں کہ کسی میں اتنی ہمت ہی نہیں کہ وہ براہ راست اسے روک دے۔ یہ نہ روکنے والا عمل کیسا ہے، کیا یہ بھی کسی پراکسی کا حصہ ہے اور ساتھ ساتھ چلنے والی قدرتی آفات، کیا ہمارے لیے الارم نہیں بجا رہیں کہ انسان زمین پر کس طرح فساد پھیلا رہا ہے، رک جا، باز آ جا، ہر انسان کی سوچ بس یہیں آ کر رک جاتی ہے۔

یہ پراکسی وار پاکستان ایک طویل عرصے سے برداشت کرتا آ رہا ہے جسے ہم افغانستان کی بربادی کے نام سے بھی پہچان سکتے ہیں، روس اور امریکا کے درمیان آمنے سامنے کی جنگ کے لیے میدان افغانستان کا چنا گیا تھا جس پر ایک عرصے سے روس کی نظریں تھیں،گرم پانیوں تک پہنچنے کی رسائی کی دوڑ نے انسانی اذیتوں کا ایک عہد لکھ ڈالا جو اس کے بعد سے آج تک رکا نہیں بلکہ کسی نہ کسی حوالے سے چل ہی رہا ہے۔

گزشتہ صدی سے جاری اس پراکسی وار کے اصل ہاتھ کون تھے، سب جانتے ہیں، پر چند ذہنوں کی زہریلی سوچ اور سیاست نے دنیا میں جو افراتفری اور ہنگامے اور قتل و غارت گری کی، نسلوں نے دکھ برداشت کیے، پاکستان کی سرزمین پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے، اس کا ذمے دار کون ہے؟

حالیہ فلسطین کے حالات کے بارے میں پراکسی وار بظاہر جچتا نہیں کیونکہ یہ تنازعہ آج کا نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے چل رہا ہے، بہرحال انسانی المیہ اس قدر بڑھا کہ دنیا دہل کر رہ گئی لیکن قلیل فوج والے اسرائیل پرکوئی اثر نہیں پڑا، اس کی پیٹھ تھپتھپائی گئی کیوں کہ قیمتی انبیائے کرام کی اس سرزمین کا مسئلہ عیسائی، یہود اور مسلمانوں کے درمیان جس مذہبی جذباتی نوعیت سے ابھرا تھا، بظاہر اسے پراکسی کا نام دینا درست نہیں لیکن قیامت کے آثار سمجھ آ رہے ہیں۔ یہود و نصاریٰ سے دوستی کا نتیجہ واضح ہے۔

پہلی جنگ عظیم طاقت کی خرمستی کی جنگ تھی، یہ کسی پراکسی کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ کھل کر آسٹریا، ہنگری، جرمنی، برطانیہ، روس، سربیا، فرانس نے لڑی، دوسری جنگ عظیم بھی ایسی ہی سرکش طاقت کی خام خیالی تھی۔ اس نے دنیا کو ایک نئے زاویے پر مرکوزکیا جس کے اثرات آج کی دنیا میں نظر آ رہے ہیں۔

ماضی کی بڑی جنگوں نے بڑی طاقتوں کو سکھایا کہ سامنے رہ کر وار کرنے اور سہنے سے بہتر ہے کہ پیچھے رہ کر چھوٹے چھوٹے پتوں سے کام چلایا جائے اور ایسا ہو رہا ہے۔ یہ کب تک چلتا رہے گا۔ کیا یہ پراکسی وارز ایک ملغوبہ سا بن کر کسی بڑے خطرے کا سگنل نہیں بجا رہا۔

یوکرین اور روس، اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی ایک جنگی صورت حال دنیا میں مختلف مقامات پر سلگا کر کسی خاص جانب اشارہ کیا جاتا رہا ہو یا نہیں پر ساری وہ نشانیاں واضح ہوتی جا رہی ہیں جو انسان کو بڑی تباہی کی جانب دھکیل رہی ہیں، جو قرآن مجید میں تحریر ہے۔

آزمائش اور سزا کے درمیان کیا رشتہ ہے، گہرائی میں جائیں تو دل دہل جاتا ہے۔ انسانی طاقت کا نشہ کس قدر عظیم ہو، قدرت کے فیصلے سے سرتابی نہیں کر سکتا۔ ساری دنیا اس اعلیٰ مرتبت ہستی کو جانتی ہے، مانتی ہے لیکن اس تک پہنچنے کے طریقے الگ الگ ہیں، سب اپنے تئیں اپنے آپ کو بالکل درست سمجھتے ہیں اور اسی اعلیٰ مرتبت کے احکامات سے منحرف ہو کر دنیا میں فساد ڈالنے والوں میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پراکسی وار پراکسی کا کے درمیان دنیا میں رہا ہے طرح کی کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف