ایران کی جوہری سائٹس پر حملے جنگی جرائم ہیں، مشاہد حسین سید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ایران کی جوہری سائٹس پر حملے جنگی جرائم ہیں، مشاہد حسین سید WhatsAppFacebookTwitter 0 22 June, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری سائٹس پر امریکی حملے سخت قابلِ مذمت ہیں۔
اپنے ایک بیان میں مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ یہ حملے ہٹ دھرمی، جارحیت اور جنگی جرائم ہیں، یہ 2003 میں عراق جنگ کی طرح جھوٹ پر مبنی ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھوکا دہی اور فریب کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی جنگیں نہ شروع کرنے کے وعدے سے پھر گئے۔سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔واضح رہے کہ ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں امریکہ بھی شامل ہوگیا ہے، امریکا نے ایران کی 3 ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر دیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ کی نوبل انعام کیلئے نامزدگی غلامی کی آخری حد ہے، بیرسٹر سیف ٹرمپ کی نوبل انعام کیلئے نامزدگی غلامی کی آخری حد ہے، بیرسٹر سیف پاکستان تحریک انصاف کی ایران پر امریکی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت وزیر اعظم شہباز شریف کا ایران کے صدر سے ٹیلی فونک رابطہ ، پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیلئے امریکی طیاروں نے کونسا راستہ اپنایا؟ خضدار میں دہشت گردوں کا حملہ، قبائلی رہنما میر عطا مینگل جاں ، بیٹے سمیت 4 زخمی ایران پر امریکی حملہ، پاکستان کیخلاف فیک نیوز اور پروپیگینڈامہم شروعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشاہد حسین سید ایران کی
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔