امریکا نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، مسعود خان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق سفارتکار مسعود خان نےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، انھوں نے کہا ایران کو یقین تھا امریکا اسرائیل کے ساتھ ملا ہوا ہے، یہ بات ثابت ہو گئی، سفارتکاری کو زیادہ موقع نہیں دیا گیا۔
سابق سفارتکار مسعود خان نےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل کوشش تھی امریکا اس جنگ میں براہ راست شریک ہو، امریکا نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، امریکا ایران کے خلاف متحارب قوم کےطور پر سامنے آیا ہے۔
مسعودخان نے کہا کہ ایران کو یقین تھا کہ اس جنگ میں امریکا اسرائیل کے ساتھ شامل ہے، اس حملے کے بعد اب یہ ثابت ہوچکا ہے، سفارکاری کو زیادہ موقع نہیں دیا گیا، امریکا اور ایران کے درمیان سفارت کاری کا آخری دور ہونا تھا، اس سے قبل ہی اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ اختلافات کے باوجود وہ کسی معاہدے کے قریب تھے، سفارتکاری کادوسرا دور جنیوا میں شروع ہوا، برطانیہ، فرانس، جرمنی کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کے ممبران نے عراقچی سے مذاکرات کیے، تاہم یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران یورپینزکے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتا، ایران امریکا سے براہ راست بات کرنا چاہتا ہے۔
مسعود خان نے کہا کہ خدشات ہیں کہ جنگ زیادہ بڑھ سکتی ہے، ایران اور اسرائیل کے درمیان فضائی جنگ شدت نہ اختیار کر لے، کل آئی اے ای اے کا خصوصی اجلاس ہو رہا ہے، اجلاس میں ڈی جی آئی اے ای اے رافائل گروسی خطاب کریں گے، امریکا نے ایران کے 3 مراکز کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، امریکا نے ایران کی 3 جوہری تنصیبات فردو، نظنز اور اصفہان پر حملہ کیا۔
سابق سفارت کار نے مزید کہا کہ فردو کی بات کریں تو یہ معلوم نہیں کہ وہاں کون سا بم استعمال کیا گیا ہے، گورنر اصفہان اور مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ زیادہ تابکاری نہیں ہوئی، اگر یہ بیانات درست ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ حملے بہت شدید نہیں تھے، بنکر بسٹر جس کا وزن تقریباً 14 ہزارکلو کے قریب ہوتا ہے وہ استعمال نہیں ہوا۔
مسعودخان نے کہا کہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام جوہری تنصیبات پہلے ہی منتقل کر دی تھیں، کیا سب کچھ اسرائیل کے پہلے حملے سے پہلے ہی منتقل کر دیا گیا تھا؟ کیونکہ ایک ہفتے کے اندر ہزاروں سینٹری فیوجزاور یورینیم کو منتقل کرنا ممکن نہیں، اس وقت متضاد صورتحال اور بیانات سامنے آ رہے ہیں، ایرانی قیادت کے بیانات ہیں کہ امریکا اگر جنگ میں ملوث ہوا تو ان کے مراکز پر حملہ کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ امریکا کے عسکری مراکز کی تعداد 30 ہے، بیشتر مراکزعراق، شام، اردن سمیت دیگر خلیجی ممالک میں ہیں، امریکا کے اثاثے بحیرۂ احمر اور بحیرۂ عرب میں بھی ہیں، خیال ہے کہ ایران عرب ممالک میں موجود مراکز پر براہ راست حملے نہیں کرے گا، ان ممالک میں حملوں کی صورت میں ایران کے تعلقات عرب دنیا سے خراب ہو سکتے ہیں، حالیہ جنگ میں خلیجی ممالک نے اصولی سطح پر ایران کا ساتھ دیا ہے۔
مسعودخان نے یہ بھی کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو مشروط کر سکتا ہے، جس سے عالمی معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے، اس صورتحال میں عالمی منڈی پر اس کا بہت بڑا اثر پڑ سکتا ہے، ایران خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ایران کو امریکا کے ردعمل کو بھی دیکھنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے حوالے سے تین اہداف ہیں، امریکا اور اسرائیل ایران میں سیاسی نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں، اسرائیل ایران کے جوہری طاقت اور میزائل کے ذخائر کو تباہ کرنا چاہتا ہے، قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ یہ ایران کو لیبیا کی طرح تقسیم کرنا چاہتے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ ایران کو علاقائی، لسانی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کر دیا جائے۔
مزیدپڑھیں:اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں، اسحاق ڈار
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات کہا کہ ایران اسرائیل کے چاہتے ہیں کہ امریکا امریکا نے نے کہا کہ پر ایران ایران کے ایران کو ہیں کہ
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔