سلامتی کونسل میں امریکی سفیر نے اسرائیل کو دہشتگرد قرار دیدیا؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
امریکی سفیر ڈورتھی سیا نے کہا کہ ہم اُن عناصر کی مذمت کرتے ہیں جو خطے میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔ جیسے اسرائیل، تاہم چند لمحوں بعد فوراً تصحیح کرتے ہوئے کہا، میرا مطلب ہے ایران جو خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بیان کو محض زبانی لغزش قرار دیا اور کہا کہ امریکی پالیسی بالکل واضح ہے کہ ایران خطے میں دہشتگردی اور کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران امریکا کی سفیر ڈروتھی شیا کے منہ سے سچ نکل گیا۔ امریکی سفیر نے اسرائیل کو خطے میں دہشت پھیلانے والا ملک قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اُن عناصر کی مذمت کرتے ہیں جو خطے میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔ جیسے اسرائیل، تاہم چند لمحوں بعد فوراً تصحیح کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ، میرا مطلب ہے ایران جو خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنے منہ سے سچ نکلنے کو محض زبانی لغزش قرار دینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پھر اپنے بے بنیاد الزام میں کہا کہ امریکی پالیسی بالکل واضح ہے کہ ایران خطے میں دہشتگردی اور کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ امریکی سفیر نے دہشتگردی کی حمایت کرتے ہوئے کہا (عالمی دہشت گرد) اسرائیل امریکا کا قریبی اتحادی ہے اور ہماری پوزیشن غیرمبہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی سفیر کرتے ہوئے کی سفیر رہا ہے کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔