امریکی سفیر ڈورتھی سیا نے کہا کہ ہم اُن عناصر کی مذمت کرتے ہیں جو خطے میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔ جیسے اسرائیل، تاہم چند لمحوں بعد فوراً تصحیح کرتے ہوئے کہا، میرا مطلب ہے ایران جو خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بیان کو محض زبانی لغزش قرار دیا اور کہا کہ امریکی پالیسی بالکل واضح ہے کہ ایران خطے میں دہشتگردی اور کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران امریکا کی سفیر ڈروتھی شیا کے منہ سے سچ نکل گیا۔ امریکی سفیر نے اسرائیل کو خطے میں دہشت پھیلانے والا ملک قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اُن عناصر کی مذمت کرتے ہیں جو خطے میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔ جیسے اسرائیل، تاہم چند لمحوں بعد فوراً تصحیح کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ، میرا مطلب ہے ایران جو خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنے منہ سے سچ نکلنے کو محض زبانی لغزش قرار دینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پھر اپنے بے بنیاد الزام میں کہا کہ امریکی پالیسی بالکل واضح ہے کہ ایران خطے میں دہشتگردی اور کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ امریکی سفیر نے دہشتگردی کی حمایت کرتے ہوئے کہا (عالمی دہشت گرد) اسرائیل امریکا کا قریبی اتحادی ہے اور ہماری پوزیشن غیرمبہم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی سفیر کرتے ہوئے کی سفیر رہا ہے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی