ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کیخلاف کل بلتستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
انجمن تاجران کے صدر غلام حسین اطہر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کیخلاف کل پورے بلتستان میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہو گی۔ میں بلتستان بھر کے تاجروں سے اپیل کرتا ہوں کہ کل امریکہ اور اسرائیل کے ظالمانہ اقدام کیخلاف ہڑتال میں حصہ لیں اور ایک بجے جامع مسجد جمع ہو جائیں جہاں سے یادگار شہداء تک ریلی نکالی جائے گی۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے خلاف کل بروز پیر کو بلتستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مظاہروں کا اعلان کر دیا گیا۔ نماز ظہرین کے بعد جامع مسجد سکردو سے ریلی نکالی جائے گی جو یادگار چوک پہنچ کر جلسے میں بدل جائے گی۔ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال انجمن امامیہ بلتستان کی درخواست پر انجمن تاجران نے دی۔ انجمن تاجران کے صدر غلام حسین اطہر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کیخلاف کل پورے بلتستان میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہو گی۔ میں بلتستان بھر کے تاجروں سے اپیل کرتا ہوں کہ کل امریکہ اور اسرائیل کے ظالمانہ اقدام کیخلاف ہڑتال میں حصہ لیں اور ایک بجے جامع مسجد جمع ہو جائیں جہاں سے یادگار شہداء تک ریلی نکالی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ اور اسرائیل میں شٹر ڈاؤن بلتستان بھر جائے گی
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔