data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

منامہ: ایران پر امریکی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور خاص طور پر بحرین اور کویت نے ہنگامی اقدامات اور حفاظتی پالیسیوں کا اعلان کر دیا ہے جب کہ سعودی عرب میں بھی ہائی سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق بحرین کی حکومت نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر ملک گیر ریموٹ ورک پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کے تحت 70 فیصد سرکاری ملازمین گھروں سے کام کریں گے، یہ فیصلہ تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں میں فوری طور پر نافذ العمل ہے، البتہ ہنگامی خدمات اور اہم شعبے اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

بحرینی وزارت تعلیم نے تعلیمی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ آن لائن کلاسز کا انعقاد یقینی بنائیں تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔

بحرین میں عوامی آگاہی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے اور ملک بھر میں سائرن سسٹم فعال کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے یا خطرے کی صورت میں فوری اطلاع دی جا سکے۔ ساتھ ہی بم شیلٹرز قائم کیے جا رہے ہیں اور شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

دوسری جانب کویت نے بھی سخت حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے وزارتی کمپلیکس میں پناہ گاہیں قائم کر دی ہیں جن میں تقریباً 900 افراد کے رہنے کی گنجائش ہے۔ کویتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی ڈیفنس کونسل مسلسل اجلاس میں رہے گی تاکہ بدلتی ہوئی صورتحال پر بروقت فیصلہ سازی کی جا سکے۔

خیال رہےکہ  سعودی عرب نے بھی ملک بھر میں ہائی سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ تمام سیکیورٹی اداروں کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ غیر ملکی ذرائع کے مطابق ایئر ڈیفنس، بارڈر سیکیورٹی اور فوجی اڈوں کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایران نے پہلے ہی خبردار کر رکھا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنائے گا،موجودہ صورتحال تیزی سے سنگین رخ اختیار کر رہی ہے اور اگر فوری سفارتی مداخلت نہ کی گئی تو پورا خطہ ایک بڑے تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گئی ہے کر دیا

پڑھیں:

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔

مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا